ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا یہ جرم کبھی جواب کے بغیر نہیں رہے گا اور اس کے ذمہ داروں کو نتائج بھگتنا ہوں گے عوام اور عالمی سطح پر آزاد لوگوں کی حمایت کے ساتھ اس واقعے کے ذمہ داروں کو ان کے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے امریکی اور اسرائیلی کارروائی سے جوڑا گیا۔
صدر پزشکیان نے ملک بھر میں سات روز کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو پہلے سے اعلان کردہ چالیس روزہ سوگ کے علاوہ ہوگی۔ حکام کے مطابق سوگ اور تعطیل کا مقصد قومی سطح پر اظہارِ یکجہتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے 27 امریکی اڈوں پر شدید حملے
اسی دوران خطے میں کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں قطری دارالحکومت دوحا میں رہائشیوں نے کم از کم گیارہ دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے،سیکیورٹی ذرائع صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے باعث اسرائیل بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے ہیں،حکام نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے فی الحال خطے میں حالات غیر یقینی ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے سرکار ی بیانات اور تصدیق کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں عبوری قیادت کیلئے تین رکنی کونسل قائم
