صومالیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔
الجزیرہ کو انٹرویو میں صومالیہ کے وزیر خارجہ علی عمر نے اسرائیل کے متنازع ملک صومالی لینڈ کو علیحدہ ریاست تسلیم کرنے کو اپنی خودمختاری کے خلاف اور ناقابلِ برداشت جارحیت قرار دیا اور خبردار کیا کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ایک مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
ادھر فلسطین کی وزارتِ خارجہ نے بھی صومالیہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس سے قبل صومالی لینڈ کو فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھ چکا ہے جو فلسطینیوں کے لیے ایک سرخ لکیر ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کے اس فیصلے کی پیروی نہیں کریں گے-
کرپشن الزامات :ملائیشین آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا، تحقیقات شروع
صومالیہ کے وزیرِ خارجہ علی عمرنے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کے اس اقدام کو ریاستی جارحیت اور صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتی ہے اور اس کے خلاف تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے اسرائیل کا یہ اقدام ہمارے عوام کے لیے کبھی قابلِ قبول نہیں ہوگا ہم اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع میں متحد ہیں، اسرائیل کو چاہیے کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والے اپنے اس اقدام کو فوری طور پر واپس لے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔
صومالیہ کا یہ شدید ردِعمل ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے باضابطہ طور پر صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا،صومالی لینڈ کی حکومت متعدد بار اسرائیل کو یقین دلا چکی ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہیں گے اور اپنے یہاں آبادکاری میں اسرائیل کی مکمل حمایت کریں گے۔
محسن نقوی اور طلال چوہدری کاایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر کا دورہ
دوسری جانب صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہی نے فلسطین کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی سطح پر مخالفت کے باوجود صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور انداز میں جشن منایا کہ اسرائیل پہلا ملک ہے جس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے۔
یاد رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں سابق صومالی حکمران محمد سیاد بری کے دور میں ہونے والے مظالم کے بعد خود کو صومالیہ سے الگ ریاست قرار دیا تھا آج تک اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہیں کیا تھا البتہ اب اسرائیل اس سلسلے میں پہلا ملک بن گیا ہے ایتھوپیا کے ساتھ اسرائیل کے قریبی روابط اور 1977 کی اوگادین جنگ کے پس منظر میں صومالیہ اور اسرائیل کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔
