Baaghi TV

اسلام آباد دھماکہ، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی شدید مذمت

اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے پر مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے واقعے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا ہے-

ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اور عبادت گاہوں پر حملے کرنا بدترین دہشتگردی ہے، جس کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا،ایسے سفاکانہ واقعات انسانی اقدار اور دینی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں،ملک دشمن قوتیں دہشتگردی کے ذریعے وطنِ عزیز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم یہ عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور ایسے واقعات قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے بعد ہوا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر روکا گیا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا واقعے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج اور تصاویر میں امام بارگاہ کے داخلی دروازے کے قریب لاشیں بکھری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ عبادت گاہ کے اندر اور باہر زخمی افراد مدد کے لیے پکار رہے تھے اس حملے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ عالمی سطح پر بھی متعدد ممالک اور تنظیموں نے مذمت کی۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ حملے کے مرکزی منصوبہ ساز سمیت چار سہولت کاروں کو خیبر پختونخوا میں رات گئے کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد کارروائیاں کیں اور علی الصبح تمام مرکزی کرداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری تھا اور داعش سے منسلک تھا، جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ کارروائیوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئےدہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور بھارت کی جانب سے مالی معاونت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

More posts