موسموں کا تغیر قدرت کا ایک سدا بہار اور ناگزیر نظام ہے، جو کائنات میں تنوع، تازگی اور حسن بکھیرتا ہے۔ کڑی دھوپ کے بعد رم جھم بارشیں، بارشوں کے بعد خنک ہوائیں اور پھر برف بار جاڑے کی آمد بلاشبہ فطرت کے حسن کو دوچند کرتی ہے، لیکن اس حسن کے ساتھ انسانی وجود پر ان تبدیلیوں کے گہرے اور ہمہ گیر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی بدن بیرونی ماحول سے جدا کوئی خود مختار اکائی نہیں، بلکہ وہ اپنے گرد و پیش کے درجہ حرارت، فضائی دباؤ، رطوبت اور ہوا کے مزاج کے تابع ہے۔ جب بھی ایک موسم رخصت ہو کر دوسرے موسم کو راستہ دیتا ہے، تو جسم کے دفاعی، تنفسی، عضلاتی اور اعصابی نظام کو اس نئے سانچے میں ڈھلنے کے لیے کڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اور یہی وہ عبوری دور ہوتا ہے جب انسانی صحت کو کٹھن آزمائشوں کا سامنا رہتا ہے۔
موسمِ گرما سے برسات اور پھر برسات سے موسمِ سرما کی طرف سفر کے دوران سب سے زیادہ زد پر نظامِ تنفس آتا ہے۔ فضا میں نمی کی زیادتی اور درختوں، پودوں سے جھڑنے والے زیرہ دانوں (Pollen) کے سبب دمہ، الرجی، نزلہ، زکام اور کھانسی کی وبا تیزی سے پھیلتی ہے۔ بدلتے موسم کے ساتھ خردبینی جراثیم، وائرس اور بیکٹیریا ہوا میں تیزی سے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ گلے میں خراش، بخار اور نمونیا جیسے عوارض خصوصاً کمسن بچوں اور معمر افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جن کا مدافعتی نظام بیرونی درجہ حرارت کے اچانک گرنے یا بڑھنے کی مدافعت اتنی جلدی نہیں کر پاتا۔
اسی طرح موسمی اتار چڑھاؤ دورانِ خون اور دل کے نظام پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ سردیوں کی آمد پر جب پارہ اچانک نیچے آتا ہے تو انسانی جسم اپنی حرارت برقرار رکھنے کے لیے رگوں کو سکیڑ دیتا ہے۔ اس انقباض سے دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، جس سے بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ، دل کے دورے اور فالج کے خطرات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب شدید گرمی کا دور دورہ ہوتا ہے تو بے تحاشا پسینے کے باعث جسم میں پانی اور اہم معدنی نمکیات کا زبردست ضیاع واقع ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ہیٹ اسٹروک، بلڈ پریشر کی خطرناک حد تک کمی اور گردوں پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔
عضلاتی اور جوڑوں کی تکالیف بھی بدلتے موسم کے مستقل ساتھی ہیں۔ فضائی دباؤ کی تبدیلی اور حبس یا خنکی کے دورانیے میں پٹھوں کا کھچاؤ، گردن کا اکڑاؤ، شیاٹیکا اور جوڑوں کا درد بے پناہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ جسم کے بافتوں میں اندرونی دباؤ بڑھنے سے پرانے درد جاگ اٹھتے ہیں اور انسان خود کو سست اور لاچار پاتا ہے۔ جسمانی اثرات کے ساتھ ساتھ یہ تغیرات ذہنی و نفسیاتی صحت پر بھی گہرا سایہ ڈالتے ہیں۔ جاڑے کی چھوٹی دوپہریں، دھند اور سورج کی دھوپ کا طویل تعطل دماغ میں سیروٹونن اور میلاٹونن کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی اداسی یا ڈیپریشن جنم لیتی ہے، نیند کے معمولات درہم برہم ہوتے ہیں اور مزاج میں اکتاہٹ سرایت کر جاتی ہے۔
ان منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ بدلتے موسم میں خوراک کا انتخاب موسمی ضروریات کے مطابق کیا جائے۔ تر و تازہ موسمی پھل، سبزیاں، گرم مشروبات جیسے یخنی اور سبز چائے مدافعت کو طاقت بخشتے ہیں۔ پانی کے متوازن استعمال کو پیاس کا احساس نہ ہونے پر بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ رطوبتوں کا نظام مستحکم رہے۔ سحر اور شام کی خنکی میں مناسب لباس، گردن اور سینے کی حفاظت، اور اچانک ٹھنڈک یا گرمی کے بے دریغ تصادم سے گریز انسان کو بے شمار الجھنوں سے بچا سکتا ہے۔ موسم کا تغیر درحقیقت انسان کو اپنے طرزِ زندگی کو تجدید کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے، اور وہی شخص تندرست رہتا ہے جو ماحول کے بدلتے تقاضوں کو بروقت سمجھ کر خود کو احتیاط کی ڈھال پہنا لے۔
