واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے، تاہم ابھی کئی اہم مراحل طے ہونا باقی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت، جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے منجمد اثاثے جاری کیے جاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ رقوم صرف ایرانی عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی اور بنیادی ضروریات پر خرچ ہوں، نہ کہ کسی عسکری یا غیر قانونی سرگرمی کے لیے۔
جے ڈی وینس نے لبنان کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ ڈرون حملوں اور سرحدی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کا ذمہ دارانہ کردار ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا کو دھمکیاں دی گئیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقائق واضح کرنے اور امریکی مؤقف پیش کرنے کے لیے بیانات جاری کریں گے، جبکہ وہ خود بھی ضرورت پڑنے پر عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایران کے لیے 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنا ہے۔
امریکا، ایران مذاکرات میں پیشرفت، جے ڈی وینس کا اہم بیان
