سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات ایک مرحلے پر تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے مذاکراتی عمل کو ناکامی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی بروقت ثالثی کے باعث فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف شدید برہم ہو گئے تھے، جس کے باعث مذاکرات کا ماحول کشیدہ ہو گیا اور بات چیت کا جاری رہنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس نازک صورتحال میں پاکستان اور قطر کے نمائندے، جو سوئٹزرلینڈ میں بطور ثالث موجود تھے، سرگرم ہوئے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماحول میں پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایرانی وفد سے اہم رابطے کیے اور انہیں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی ناراضی کے باعث مذاکرات کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کرنا پڑی، جس کے بعد مختلف امور پر مرحلہ وار پیش رفت کا نیا فارمیٹ اختیار کیا گیا۔ اس حکمت عملی کے تحت ایک معاملے میں پیش رفت کے ساتھ دوسرے معاملات پر بھی بات چیت آگے بڑھائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو دی جانے والی ابتدائی رعایت مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جبکہ آئندہ پیش رفت کا انحصار امریکی محکمہ خزانہ کے مزید اقدامات پر ہوگا۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیانات کو بھی مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے ایک مرتبہ پھر خطے میں دونوں ممالک کے ثالثی کردار کو نمایاں کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور مستقبل میں مزید مثبت پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کو تعطل سے بچا لیا
