Baaghi TV

‎ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے بیرون ملک تعینات 46 افسران کی تاحال واپسی نہ ہونے کا انکشاف

‎پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے بیرون ملک تعینات افسران کی طویل مدت سے وطن واپسی نہ ہونے کا معاملہ سامنے آگیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ 46 افسران اپنی مقررہ تین سالہ پوسٹنگ مکمل ہونے کے باوجود تاحال بیرون ملک تعینات ہیں۔
‎آڈٹ حکام کے مطابق محکمہ پاسپورٹ کی پالیسی کے تحت بیرون ملک تعینات افسران کو ہر تین سال بعد وطن واپس آنا چاہیے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان 46 افسران کی تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد بھی بیرون ملک قیام کے دوران ہونے والے اخراجات کو آڈٹ حکام نے ناجائز قرار دیا ہے۔
‎سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت بیرون ملک تعیناتیوں کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔ تاہم پی اے سی نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ افسران کو پرانی پالیسی کے تحت اپنی مقررہ مدت مکمل ہونے پر واپس آ جانا چاہیے تھا اور نئی پالیسی صرف نئے تعینات ہونے والے افسران پر لاگو ہوگی۔
‎ڈی جی پاسپورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے افسران کی تعیناتی تک موجودہ افسران کو واپس بلانا ممکن نہیں کیونکہ بیرون ملک موجود پاکستانی مشنز کو خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مشنز کی فعالیت برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات بھی دیکھنے ہوں گے۔
‎اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں سینئر افسران کے پاس متعدد اضافی عہدوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کے رکن نوید قمر نے کہا کہ سی ڈی اے میں تقریباً ہر افسر کے پاس ایک سے زائد عہدے موجود ہیں۔
‎پی اے سی نے چیئرمین سی ڈی اے سے فنانشل ایڈوائزر اور ڈی جی انفورسمنٹ کے اضافی عہدوں سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ بتایا گیا کہ فنانشل ایڈوائزر کے پاس ممبر پلاننگ کا عہدہ بھی ہے، جبکہ ڈی جی انفورسمنٹ کے پاس بھی متعدد ذمہ داریاں موجود ہیں۔ رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ڈی جی انفورسمنٹ کے پاس چار عہدے ہیں۔
‎پی اے سی نے سی ڈی اے کے سینئر افسران سے اضافی عہدے واپس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عمل کی تکمیل کے لیے دو ماہ کی مہلت دے دی۔ اجلاس کے دوران سلیم مانڈوی والا نے سی ڈی اے میں ایک مافیا کے سرگرم ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

More posts