Baaghi TV

جنسی ہراسانی ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاستگی اور دس لاکھ روپے جرمانہ

court

جنسی ہراسانی ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاستگی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے خاتون ملازمہ کی جنسی ہراسانی کی شکایت پر سزا سنا دی ۔

وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت محترمہ فوزیہ وقار نے 17 اگست 2026 کو ایک وفاقی سرکاری ادارے میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں اپنا حتمی فیصلہ صادر کیا۔ شکایت ایک خاتون ملازمہ نے دائر کی تھی جو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 نومبر 2025 کو ادارے کا ایک جونیئر کلرک ان کے دفتر میں آیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی، ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں دیوار کے ساتھ دھکیلا اور زبردستی ان کا منہ بند کیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وہ اسی وقت اس واقعے کی اطلاع دینے ایک اعلیٰ افسر، ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) کے پاس گئیں۔ گواہان کے بیانات نے بھی واقعے کی فوری اطلاع دہی اور شکایت کنندہ کی ذہنی اذیت کی تصدیق کی۔ وفاقی محتسب نے شکایت کنندہ کی گواہی کو قابلِ اعتبار اور دیگر شواہد سے مصدقہ قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ ملزم نمبر ایک کا طرزِ عمل ” ایکٹ 2010ء” کی دفعہ 2(h)(i) کے تحت جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

نتیجتاً ملزم نمبر ایک کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ثابت پایا گیا، اور مذکورہ قانون کی دفعہ 4(4)(ii)(d) کے تحت انہیں ملازمت سے برطرفی کی سنگین سزا سنائی گئی۔ ان پر دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جس میں سے آٹھ لاکھ روپے شکایت کنندہ کو بطور تلافی ادا کیے جائیں گے، جبکہ دو لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔دوسری جانب، یہ الزام کہ ملزم نمبر دو نے ملزم نمبر ایک کو تحفظ فراہم کیا یا سہولت کاری کی، ثابت نہ ہو سکا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ انہوں نے معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے لانے کے لیے مناسب اقدامات کیے تھے، چنانچہ انہیں بری قرار دیا گیا اور ان کے خلاف شکایت خارج کر دی گئی۔وفاقی محتسب نے شکایت ملزم نمبر ایک کے خلاف منظور کی جبکہ ملزم نمبر دو کے خلاف مسترد کر دی۔

More posts