سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش اور اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔رواں سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفا دے دیا تھا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 29 فروری اور یکم مارچ کو اجلاس ہوا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی پر بطور جج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ججز نے ان الزامات اور صفائی پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیے کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہرے۔ مذکورہ جج کے خلاف 6 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے پانچ پر معزز اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش کر دی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کو پنشن اور مراعات نہیں ملیں گی
سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ بات آئی کہ مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے مرتکب ہوئے ہیں اور مجرم قرار دیے گئے لہذا صدر مملکت انہیں عہدے سے برطرف کریں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیرِسماعت تھی جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے، اس کے علاوہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔گزشتہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی مکمل کی تھی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز پر الزامات لگا کر ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کی ہے، رول 5 میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق ججز کا مؤقف ہے کہ بےبنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بےبنیاد الزامات کا جواب دینے سے شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار
