Baaghi TV

12 ربیع الاول .آمدِ مصطفیٰ ﷺ؛ کائنات کا حسین ترین باب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

shahid naseem

عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور ایک امتی کے دل کی داستان

رات گہری تھی۔ مکہ کی خاموش وادی پر سکوت طاری تھا۔ ستارے جیسے کسی غیر معمولی خبر کے منتظر تھے۔ تاریخ اپنی رفتار سے چل رہی تھی، مگر کائنات کو شاید معلوم تھا کہ اب وہ لمحہ قریب ہے جس کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
اور پھر وہ ساعت آئی…
مکہ مکرمہ کی سرزمین پر حضرت آمنہؓ کے آنگن میں وہ نور جلوہ گر ہوا جسے دنیا نے محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام سے جانا۔ ایک ایسی ہستی جس کے آنے سے انسانیت کو سمت ملی، بھٹکے ہوئے قافلے کو منزل ملی، دلوں کو سکون ملا اور زندگی کو مقصد نصیب ہوا۔
یہ صرف ایک ولادت نہ تھی؛ یہ رحمت کے ظہور کی داستان تھی۔
اسی لیے جب عاشقِ رسول ﷺ کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہیں:
مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
تو محسوس ہوتا ہے جیسے ایک زبان نہیں، کروڑوں دل بیک وقت سلام پیش کر رہے ہوں۔
12 ربیع الاول کی حقیقت کیا ہے ؟
12 ربیع الاول صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ وہ عظیم لمحہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی نعمت یعنی رسول اللہ ﷺ کو اس دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین”
(ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔)
یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت سراسر رحمت ہے۔ آپ کی ذات سے کائنات کو معنویت ملی، آپ کی تعلیمات سے انسان نے انسانیت سیکھی، آپ کے اخلاق سے دنیا نے حسنِ سلوک کا سبق لیا، اور آپ کے کردار سے مظلوم کو سہارا ملا۔
12 ربیع الاول کا ذکر آتے ہی فضائیں درود و سلام سے مہکنے لگتی ہیں۔ کہیں مسجد کے مینار روشن ہوتے ہیں، کہیں گھروں میں چراغاں ہوتا ہے، کہیں نعت کی محفل سجتی ہے اور کہیں ایک بوڑھی ماں اپنے لرزتے ہاتھ اٹھا کر اپنے محبوب نبی ﷺ پر درود بھیجتی ہے۔ کسی بچے کے ہاتھ میں سبز پرچم ہوتا ہے اور کسی نوجوان کے لبوں پر نعتِ رسول ﷺ۔
یہ محبت کا وہ رنگ ہے جسے زمانے کی کوئی گرد ماند نہیں کر سکتی۔
رسولِ اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا کے بہت سے معاشرے ظلم، جہالت، تعصب اور ناانصافی میں گرفتار تھے۔ طاقتور کمزور کو روند دیتا تھا، عورت کی عزت محفوظ نہ تھی، یتیم بے سہارا تھا اور غلام انسان ہونے کے باوجود انسانیت کے حقوق سے محروم تھا۔
پھر مدینۂ رحمت کا وہ چراغ روشن ہوا جس نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا۔
قرآن نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
یعنی آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
یہی تو محمد ﷺ کی شان ہے کہ آپ کی رحمت کسی ایک خطے، نسل، زبان یا زمانے تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ نے یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، غلام کو عزت دی، عورت کو مقام دیا، پڑوسی کے حقوق سکھائے، دشمن کے ساتھ بھی عدل کا درس دیا اور انسان کو یہ سبق دیا کہ اصل عظمت اقتدار میں نہیں، کردار میں ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت کا ہر ورق محبت کا چراغ ہے۔
آپ ﷺ کی صداقت ایسی کہ دشمن بھی امین کہہ کر پکاریں۔
آپ ﷺ کی امانت ایسی کہ مخالفین بھی اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھیں۔
آپ ﷺ کا اخلاق ایسا کہ قرآن نے فرمایا کہ آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔
اسی لیے مدحتِ مصطفیٰ ﷺ صرف شاعری نہیں؛ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
علامہ امام احمد رضا خان بریلویؒ کا سلام اسی کیفیت کی ایک لازوال ترجمانی ہے۔ "مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ اپنے معنی سے آگے بڑھ کر عقیدت بن جاتے ہیں، عقیدت عبادت کی خوشبو اختیار کر لیتی ہے اور دل مدینے کی گلیوں میں جا پہنچتا ہے۔
12 ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ ایک سوال بھی دیتا ہے:
کیا ہمارے دل میں محبتِ رسول ﷺ ہے؟
اگر ہے تو پھر ہماری زبان سے نکلنے والا درود ہمارے کردار میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اپنا محبوب مانتے ہیں تو ہمارے معاملات میں صداقت، ہمارے رویوں میں نرمی، ہمارے گھروں میں محبت، ہمارے معاشرے میں انصاف اور ہماری زندگی میں سنت کی خوشبو ہونی چاہیے۔
محبت صرف نعرہ نہیں، کردار کا نام ہے۔
ایک محفلِ میلاد میں بیٹھا ہوا ایک بوڑھا شخص جب آنکھیں بند کرکے درود و سلام پڑھتا ہے تو شاید اس کے سامنے دنیا کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ اس کی آنکھوں میں صرف مدینہ ہوتا ہے۔
ایک بچہ جب پہلی بار نعت پڑھتا ہے تو اس کے معصوم لہجے میں شاید الفاظ کم ہوتے ہیں، مگر محبت بے حساب ہوتی ہے۔
ایک نعت خواں جب راقم الحروف کی نعت کے یہ شعر پڑھتا ہے:
ہر دور میں رہے گی بڑائی حضورؐ کی
قرآں ہے سارا مدح سرائی حضورؐ کی
تو محفل میں بیٹھے دل جان لیتے ہیں کہ یہ کسی شاعر کی محض عقیدت نہیں، ایک امتی کے ایمان کی خوشبو ہے۔
اور جب آواز بلند ہوتی ہے:
دل کو جِلا ملی ہے درِ مصطفیٰ سے یوں
ہم کو ملی ہے راہ نمائی حضورؐ کی
تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی زندگی کے اندھیروں میں سب سے روشن راستہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہے۔
آج دنیا جدید ہو گئی ہے۔ انسان نے فاصلے سمیٹ لیے، ٹیکنالوجی نے زمانے بدل دیے، مگر دلوں کا سکون آج بھی تلاش میں ہے۔ نفرتیں بڑھ رہی ہیں، رشتے کمزور ہو رہے ہیں، برداشت ختم ہو رہی ہے اور انسان ترقی کے باوجود اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے وقت میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
ہمیں وہ مدینہ یاد کرنا ہوگا جہاں بھائی چارہ صرف کتابوں کا لفظ نہیں تھا، جہاں عدل صرف تقریر کا موضوع نہیں تھا، جہاں رحم صرف دعاؤں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں موجود تھا۔
12 ربیع الاول کا اصل پیغام یہی ہے کہ چراغاں صرف گلیوں میں نہ ہو، دلوں میں بھی ہو۔
درود صرف زبان پر نہ ہو، عمل میں بھی ہو۔
نعت صرف محفل میں نہ گونجے، کردار میں بھی سنائی دے۔
اور محبتِ رسول ﷺ صرف دعویٰ نہ رہے، زندگی کا راستہ بن جائے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر میں واقعی مصطفیٰ ﷺ کا امتی ہوں تو میرے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟
جواب سادہ بھی ہے اور عظیم بھی:
مجھے اپنے محبوب ﷺ کی سیرت کا عکس بننا ہے۔
اسی امید کے ساتھ شاعر کی زبان سے ایک التجا نکلتی ہے:
دنیا کے سارے رشتے بھلا کر سکوں ملا
نسبت جبیں نے جب سے ہے پائی حضورؐ کی
اور آخرکار ایک امتی کی تمام خواہشیں ایک ہی مقام پر آ کر ٹھہر جاتی ہیں—مدینہ۔
وہ مدینہ جہاں پہنچنے کی آرزو آنکھوں میں نمی بن جاتی ہے، جہاں کا تصور دل کو دھڑکاتا ہے اور جہاں جانے والا ہر عاشق یہی سمجھتا ہے کہ اس نے دنیا نہیں، اپنی منزل پا لی۔
اسی لیے:
بخشِش کی آس لے کے کھڑا ہوں مدینہ میں
کافی ہے مجھ کو دادِ گدائی حضورؐ کی
12 ربیع الاول کا سورج ہر سال طلوع ہوتا ہے، مگر اس کا پیغام کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی دولت محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہے، سب سے روشن راستہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہے اور سب سے خوب صورت آواز درود و سلام کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمیں آپ ﷺ کی سچی محبت نصیب کرے، آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے اور ہماری زندگیوں کو اس قابل بنائے کہ قیامت کے دن ہم اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں بلکہ سرخرو کھڑے ہوں۔
شاہد میری نجات کا سامان یہی تو ہے
کرتا رہوں میں نعت سرائی حضور کی
یہ شعر دراصل شاعر کے عشقِ رسول ﷺ، عاجزی اور امیدِ مغفرت کی خوب صورت ترجمانی کرتا ہے۔ "شاہد” اپنے آپ کو مخاطب کرکے یہ اقرار کرتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش اور ہر دعوے سے بڑھ کر اس کے لیے نعتِ رسول ﷺ ایک روحانی سہارا ہے۔ نعت سرائی کو وہ اپنی نجات کا سامان سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں یہ یقین ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، ذکر اور مدحت انسان کے دل کو پاکیزگی، ادب اور سیرتِ طیبہ کی پیروی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس شعر کی اصل خوب صورتی عاجزی میں ہے؛ شاعر اپنی نیکیوں پر فخر نہیں کرتا بلکہ بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں اپنی نسبت کو سرمایہ سمجھتا ہے۔ یہی کیفیت عشقِ رسول ﷺ کی وہ منزل ہے جہاں زبان پر نعت، دل میں محبت اور زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا عکس مطلوب بن جاتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا دن نہیں جس نے انسانیت کو اتنی روشنی، اتنا سکون، اتنی محبت اور اتنی ہدایت بخشی ہو جتنا دن 12 ربیع الاول کا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں نورِ محمدی ﷺ کی آمد سے اندھیروں کا خاتمہ ہوا، ظلمتوں کے در کھلے، اور انسانیت نے اپنے سب سے بڑے محسن کو پایا۔ اس روز کی خوشی محض کسی ایک فرد یا قبیلے کی خوشی نہیں بلکہ کائنات کے ذرے ذرے کی مسرت ہے، اسی لیے صدیوں سے عاشقانِ مصطفی ﷺ اس دن کو عید کی طرح مناتے آئے ہیں۔۔۔اور کہتے ہیں۔۔
مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام۔
اللہ کرے کہ ہماری زندگیاں بھی درود و سلام سے مہک جائیں، ہمارے دل عشقِ رسول ﷺ سے منور ہو جائیں، اور ہمارا کردار اس بات کی گواہی دے کہ ہم واقعی "مصطفوی” ہیں۔
نعت شریف بحضور سرور کونین
ہر دور میں رہے گی بڑائی حضورؐ کی
قرآں ہے سارا مدح سرائی حضورؐ کی

دل کو جِلا ملی ہے درِ مصطفیٰ سے یوں
ہم کو ملی ہے راہ نمائی حضورؐ کی

عرفاں کے سب چراغ فروزاں ہوئے وہاں
جس دل نےبھی ہے معرفت پائی حضورؐ کی

دنیا کے سارے رشتے بھلا کر سکوں ملا
نسبت جبیں نے جب سے ہے پائی حضورؐ کی

ذکرِ نبیؐ سے رخشاں ہے شاعر کا ہر سخن
لب پر رہے ہمیشہ ثنائی حضورؐ کی

عرش بریں سے فرش زمیں تک ہےاک صدا
ہوتی ہے ہر جا مدح سرائی حضور کی

بخشش کی آس لے کےکھڑا ہوں مدینہ میں
کافی ہے مجھ کو داد گدائی حضورؐ کی

شاہدؔ مری نجات کا ساماں یہی تو ہے
کرتا رہوں میں،نعت سرائی حضور کی

More posts