وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے سے شہر کے مسائل حل ہونے کے امکانات ہیں، اس شہر کو وفاقی علاقہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
’ویژن فار پاکستان‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر بحث خوش آئند ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس بحث میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہیے، کسی پر فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے اور اس معاملے میں سب سے پہلے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بھی سیاست کی نذر ہوگیا، یہاں تک کہ اس معاملے پر بات کرنے کو بھی ناممکن بنا دیا گیا۔ انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 1950 میں صوبوں کے حوالے سے کمیشن قائم کیا گیا اور پنجاب میں بھی وقت کے ساتھ کئی صوبے بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے مفاد میں ہیں تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے اور سیاسی بحث کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مضبوط بلدیاتی نظام نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹس کا مکمل متبادل نہیں ہوسکتا۔ بلدیاتی نظام کو کتنا ہی طاقتور بنا لیا جائے، وہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا ایڈمنسٹریٹو یونٹس کو آبادی کے تناسب سے وسائل فراہم کیے جاسکتے ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ صرف بلدیاتی نظام مضبوط بنانے سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ نئے صوبے بنانے کے مقابلے میں ایڈمنسٹریٹو یونٹس کا قیام زیادہ بہتر آپشن ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے انتشار کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
