Baaghi TV

غزہ،صرف افسوس،مذمت،قرارداد کافی نہیں،تحریر:طارق نوید سندھو

غزہ سے بچوں سمیت پچاس افراد کی لاشوں کا برآمد ہونا انسانیت کے ضمیر پر دستک دینے والی وہ چیخ ہے جسے سن کر بھی اگر دنیا خاموش رہے تو یہ خاموشی خود ایک المیہ بن جاتی ہے، ملبے سے برآمد ہونے والی ہر لاش اپنے ساتھ ایک داستان لاتی ہے؛ کسی ماں کی ممتا، کسی باپ کی امید، کسی بچے کا خواب اور کسی گھر کی وہ ہنسی جو چند لمحے پہلے تک زندگی کی علامت تھی،اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کی چشم کشا رپورٹ غزہ کی تباہی کا ایک ایسا نقشہ سامنے لاتی ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ غزہ کی 94 فیصد آبادی چھت سے محروم ہے، جبکہ تقریباً 80 فیصد گھرانے مناسب پناہ گاہ کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اسرائیلی مظالم کے بعد گھر اب صرف ایک یاد بن چکا ہے، اور جن کے لیے آسمان بھی کسی محفوظ چھت کا نعم البدل نہیں۔

پناہ گاہوں میں ایندھن، توانائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قلت نے زندگی کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے۔ سونا، کھانا پکانا، نہانا، خوراک تیار کرنا، پانی محفوظ کرنا اور موسم کی شدت سے بچنا،یہ سب بنیادی انسانی ضروریات ہیں، مگر غزہ کے لوگوں کے لیے یہی معمولی ضرورتیں بھی ایک دشوار امتحان بن چکی ہیں،جنگ بندی کے باوجود فضائی حملوں، شیلنگ اور فائرنگ میں فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ غزہ کے شہریوں کے لیے جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ اور اسی دوران مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں نئی آبادکاری کے منصوبے ایک اور سوال اٹھاتے ہیں، کیا امن کے دعوے صرف سفارتی بیانات تک محدود رہیں گے؟ اسلامی تعاون تنظیم نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ اٹلی، فرانس، کینیڈا اور ناروے سمیت متعدد ممالک نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبادکاری کی توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ صورتِ حال اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ زمین پر کیے جانے والے اقدامات اور عالمی سطح پر دیے جانے والے بیانات کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ دنیا امن کی بات کرتی ہے، مگر اگر اسی وقت وہ قوتیں جو فیصلہ کن اثر رکھتی ہیں عملی اقدام سے گریز کریں تو امن محض ایک خوبصورت لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔فلسطینی المیہ آج کا پیدا کردہ نہیں۔ پون صدی سے زیادہ عرصے سے فلسطینی نسلیں بے دخلی، محاصرے، محرومی اور تشدد کا سامنا کرتی چلی آ رہی ہیں۔ کئی قراردادیں منظور ہوئیں، بے شمار اجلاس منعقد ہوئے، عالمی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا اور مذمتی بیانات جاری کیے، مگر فلسطینی ماں کی آنکھ سے بہنے والا آنسو آج بھی وہیں ہے، فلسطینی بچے کا خوف آج بھی وہیں ہے اور غزہ کا ملبہ آج بھی انسانیت سے سوال کر رہا ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ شہید ہوئے؛ سوال یہ ہے کہ ان جانوں کی قیمت کب محسوس کی جائے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ عالمی اداروں کے پاس قراردادوں کے علاوہ کوئی ایسا عملی راستہ کیوں نہیں جو ظلم کا ہاتھ روک سکے؟ کیا انسانیت کی قدر صرف اس وقت تک ہے جب تک مقتول کسی طاقتور قوم سے تعلق رکھتا ہو؟
ظلم کو محض الفاظ سے نہیں روکا جا سکتا۔ مذمت، افسوس اور تشویش اپنی جگہ، مگر ایک بھوکے بچے کے لیے بیان خوراک نہیں، بے گھر خاندان کے لیے قرارداد چھت نہیں اور ملبے تلے دبے انسان کے لیے سفارتی زبان زندگی نہیں بن سکتی،غزہ آج انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر دنیا اس امتحان میں بھی خاموش رہتی ہے تو تاریخ صرف قاتلوں کو نہیں، خاموش تماشائیوں کو بھی یاد رکھے گی۔اور شاید غزہ کے ملبے سے ملنے والی ہر ننھی لاش آنے والی نسلوں سے یہی سوال کرے گی،جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا، تب دنیا کہاں تھی؟

More posts