Baaghi TV

کراچی کے طلبہ کا کمال، ڈرائیونگ کے دوران نیند سے بچانے والا سمارٹ نظام تیار کرلیا

کراچی سمیت ملک بھر میں ڈرائیونگ کے دوران نیند اور شدید تھکن کے باعث پیش آنے والے حادثات کی روک تھام کے لیے علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کے شعبہ الیکٹریکل کے طلبہ نے جدید ’’اینٹی سلیپ کار الارم سسٹم‘‘ تیار کرلیا ہے، جو ڈرائیور کی آنکھوں کی حرکات پر مسلسل نظر رکھ کر غنودگی کی صورت میں فوری طور پر خبردار کرے گا۔

خضر شیخ اور کامران علی کی جانب سے تیار کیے گئے اس سمارٹ نظام میں انفراریڈ سینسر نصب کیا گیا ہے، جو ڈرائیور کی آنکھوں کی حالت اور حرکات کو مسلسل مانیٹر کرتا ہے۔ اگر ڈرائیور کی آنکھیں مقررہ وقت تک مسلسل بند رہیں تو نظام اسے نیند یا شدید غنودگی کی ممکنہ علامت سمجھتے ہوئے فوری طور پر بزر الارم بجا دیتا ہے، جس کا مقصد ڈرائیور کو خبردار کرنا اور اس کی توجہ دوبارہ سڑک کی جانب مرکوز کرنا ہے۔

طلبہ کے تیار کردہ اس نظام کی اہمیت طویل فاصلے تک سفر کرنے والی بڑی گاڑیوں، خصوصاً ٹرالرز، آئل ٹینکرز اور دیگر بھاری گاڑیوں کے لیے مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ کئی گھنٹے مسلسل ڈرائیونگ اور مناسب آرام نہ ملنے کی صورت میں ڈرائیور کی توجہ، ردعمل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں سنگین ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس سمارٹ نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ غنودگی کی نشاندہی ہونے پر اسے گاڑی کو خودکار طور پر روکنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس فیچر کا مقصد اس صورتحال میں ممکنہ حادثے کے خطرے کو کم کرنا ہے جب ڈرائیور نیند یا شدید غنودگی کے باعث گاڑی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کھو دے۔

نظام میں موجود مائیکرو کنٹرولر سینسر سے حاصل ہونے والی معلومات کو مسلسل پراسیس کرتا ہے اور ڈرائیور کی حالت پر حقیقی وقت میں نظر رکھتا ہے۔ یہ سسٹم 9 وولٹ کی بیٹری سے چل سکتا ہے، کم جگہ گھیرتا ہے اور اسے گاڑی کے ڈیش بورڈ میں نصب کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

منصوبے کے ایڈوائزر عمران اختر کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد مہنگے حفاظتی نظام کا کم لاگت اور مقامی متبادل تیار کرنا ہے، جسے عام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے تک چلنے والی بھاری گاڑیوں میں بھی استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مزید بہتری، ٹیسٹنگ اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صورت میں یہ نظام ڈرائیوروں کی غنودگی کے باعث پیش آنے والے حادثات کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور بالخصوص بڑی گاڑیوں کے حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کی پروجیکٹ ایگزیبیشن 2026 میں پیش کیا جانے والا یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی نوجوان ملک کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر جدید، کم لاگت اور قابلِ استعمال ٹیکنالوجی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

طلبہ کی یہ کاوش مستقبل میں ٹیکنالوجی کو ٹریفک سیفٹی کے ساتھ جوڑنے اور کراچی سمیت ملک بھر کی شاہراہوں پر ڈرائیونگ کے دوران نیند سے ہونے والے حادثات میں کمی لانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔

More posts