Baaghi TV

چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

nasa

امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-

ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔

ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی لکھا کہ ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-

ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔

nasa

ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

nasa

ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

nasa

اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔

earth

مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔

اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔

کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔

ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-

اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔

’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

More posts