ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ فسادات کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل بغاوت کی ایک منظم کوشش تھی، جسے ایرانی قوم نے ناکام بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ یہ محض الزام نہیں بلکہ شواہد سے ثابت ہے کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی امریکی صدر کے بیانات خود اس بات کا ثبوت ہیں، جن میں انہوں نے فسادی عناصر کو آگے بڑھنے اور مدد فراہم کرنے کے اشارے دیےحالیہ فسادات بیرونِ ملک سے کنٹرول کی جانے والی بغاوت کی کوشش تھے، جنہیں ہوا دینے کے لیے سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے تمام وسائل استعمال کیے، تاہم یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جارح طاقتوں کے مفادات سے ٹکرا رہا ہے، اسی لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دشمن مکمل طور پر مایوس نہ ہو جائےدکانداروں اور تاجروں کے بعض مطالبا ت جائز تھے، مگر فسادی عناصر نے پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی تاجروں کو صورتِ حال کا ادراک ہوا، انہوں نے خود کو ان عناصر سے الگ کر لیا ایرانی قوم کی بیداری، اتحاد اور شعور نے اس سازش کو ناکام بنایا اور ثابت کر دیا کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
