ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے۔
انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای نے، بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزارپر حاضری دی اور دعا کی۔
سپریم لیڈر نے مزار میں آیت اللہ خمینی کے پوتےحسن خمینی سے ملاقات کی اس دوران سپریم لیڈر نے آیت اللہ خمینی کے مزار کے احاطے میں نماز ادا کی،ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اپنی کابینہ کےساتھ آیت اللہ خمینی کےمزار پر آئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا سامنے آنا ان خبروں کی تردید کا ایک پیغام لگتا ہے جو پہلے لیک ہوئی تھیں کہ امریکی حملے کے خوف سے سپریم لیڈر کو زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑی قوت جمع کرنے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
’’ وال سٹریٹ جنرل‘‘ نے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر اہم آپشنز کا ایک مجموعہ رکھا گیا ہے جو ان کے حتمی فیصلے کا منتظر ہے۔ رکھے گئے آپشنز میں ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے پر حملہ کرنا، حکومت کو گرانے کا سبب بننا اور سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانا، یا ان تمام چیزوں کے مجموعے پر عمل کرنا شامل ہے۔
