Baaghi TV

نیکٹا کادہشت گردی کے خلاف ایک نیا عزم،تحریر: جان ایم رمضان

پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کی مضبوط قیادت، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت فیصلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔

جنرل فیصل نصیر کے نیکٹا کی کمان سنبھالنے کے بعد قومی سلامتی کے حلقوں میں یہ تاثر نمایاں ہوا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ریاستی حکمتِ عملی میں مزید فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ان کی آمد کے بعد فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر پر دباؤ بڑھا ہے اور ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی محسوس ہوئی ہے۔تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس نظام، انتظامیہ اور عوام کے مشترکہ عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ کامیابی اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے سہولت کاروں، مالی معاونت، انتہاپسندانہ بیانیے اور منظم نیٹ ورکس کا بھی مؤثر سدباب کیا جائے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہماری افواج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس لیے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا میں ذمہ داری کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر قومی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قانون کے مطابق کارروائی مضبوط ہوتی ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے لیے پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا یقیناً مشکل ہو سکتا ہے۔آج پاکستان کو ایسے ہی قومی عزم کی ضرورت ہے جس میں ریاست واضح پیغام دے کہ ملک کی سلامتی، عوام کی جان و مال اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

فتنہ کوئی بھی ہو، اس کا مقابلہ ریاستی طاقت کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان زندہ باد۔

More posts