ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل برآمد کرنے والی مشرقی، مغربی آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر معطل کردیا۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا ہے۔ وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ پائپ لائن کو جمعرات کی صبح نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق مشرقی، مغربی آئل پائپ لائن پر عراق سے ڈرون حملہ کیا گیا۔ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر سعودی عرب نے فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثیوں کی برق رفتار کارروائیوں کے نتیجے میں یمن کی بحیرۂ احمر سے متصل پوری ساحلی پٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
