تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور، سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام، مہنگائی کے خاتمے اور دفاعی تعاون کی حمایت کا مطالبہ
چترال (فتح اللہ) اہلسنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام جنالی آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین، علماء کرام اور چترال، آیون و دروش سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت اہلسنت والجماعت چترال کے امیر مولانا حافظ خوشولی خان نے کی۔
کانفرنس سے سابق ناظم آیون مفتی عماد الحق، عنایت اللہ اسیر، عبدالولی خان ایڈووکیٹ، مولانا سراج الدین ندیم، عیدالحسین، مولانا قاضی سلامت اللہ اور مولانا شیر زمان خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ سے دین اسلام کی تعلیمات حاصل کرکے انہیں آگے امت تک پہنچایا، اس لیے صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کا تحفظ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی شخصیات اور صحابہ کرامؓ کی شان میں توہین آمیز مواد پھیلانے کی کوششیں قابل تشویش ہیں، جن کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔مولانا سراج الدین ندیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال کے عوام کو اپنے دین کے ساتھ ساتھ اپنے ملک سے بھی گہری محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور ملک کی حفاظت کے معاملے میں قوم کو متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کے لوگ امن پسند ہیں اور ملک میں امن و امان کے قیام اور قومی یکجہتی کے لیے ہر مثبت کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس لیے ملک میں دینی اقدار، قومی وحدت اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و مذہبی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ملکی سلامتی اور امن کے معاملات پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔کانفرنس کے دوران تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں سوشل میڈیا پر صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخانہ مواد کی روک تھام اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری قرارداد میں ہوشربا مہنگائی پر قابو پانے اور غریب عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ تیسری قرارداد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔صدرِ اجلاس مولانا حافظ خوشولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملکی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح ایمان اور دینی اقدار کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن، نماز، روزہ، حج، تبلیغ اور دیگر دینی تعلیمات ہم تک صحابہ کرامؓ کے ذریعے پہنچیں، اس لیے ان کی عزت و مقام کا دفاع دراصل دین کی حفاظت کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کے کردار اور مقام کے خلاف مہم کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی، تاہم ایسے معاملات میں قانون اور پرامن طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع صحابہ کا راستہ آسان نہیں بلکہ مشکلات سے بھرا ہوا ہے اور اس مقصد کے لیے ماضی میں کئی علماء اور اکابرین نے قربانیاں دی ہیں۔مولانا حافظ خوشولی خان نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو کم کرکے دین، ملک اور قومی سلامتی کے معاملات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان معمولی سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کے معاملے میں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کیا جائے۔
کانفرنس کے اختتام پر مولانا حافظ خوشولی خان نے شرکاء سے ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ اور اس مقصد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنے کا عہد بھی لیا۔ بعد ازاں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما اور سابق ناظم آیون مولانا رحمت نعیم شاہ المعروف ’’مولائی روم‘‘ نے دعا کرائی، جس کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
