Baaghi TV

ہم خود سے اتنے دور کیوں ہو گئے؟تحریر: زینب جہانزیب

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی گمشدگی کسی شہر، کسی راستے یا کسی شخص میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ خود اپنی ہی ذات کے اندر کہیں گم ہو جاتا ہے۔ عجیب بات ہے نا۔۔۔ ہم ساری عمر خود کو ڈھونڈتے رہتے ہیں، مگر جس جگہ ہمیں خود کو تلاش کرنا چاہیے، وہاں جانے سے ہی ڈرتے ہیں۔ ہم دنیا کے ہر سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنے وجود کے اُس سوال سے نظریں چرا لیتے ہیں جو خاموشی سے ہمارے اندر بیٹھا ہوتا ہے: میں کون ہوں؟ یہ "میں” آخر ہے کیا؟ ایک نام؟ ایک چہرہ؟ ایک جسم؟ چند رشتے؟ کچھ خواہشیں؟ کچھ کامیابیاں؟ یا پھر وہ سب کچھ جو ہم نے اپنے بارے میں لوگوں کی زبان سے سن کر سچ مان لیا؟

ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو ساری زندگی دوسروں کی بنائی ہوئی اپنی تصویر کو سچ سمجھ کر جیتے رہتے ہیں۔ کسی نے کہا تم بہت مضبوط ہو، تو ہم اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں۔ کسی نے کہا تم ناکام ہو، تو ہم اپنی قدر بھول جاتے ہیں۔ کسی نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہمیں لگتا ہے شاید ہم محبت کے قابل ہی نہیں تھے۔ کسی نے ہمیں سراہ دیا تو ہم خود کو مکمل سمجھ بیٹھے۔ یوں آہستہ آہستہ ہماری ذات ہمارے اپنے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کی رائے میں بٹ جاتی ہے۔

اور پھر ایک دن ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ چہرہ وہی ہوتا ہے، آنکھیں وہی، نام وہی۔۔۔ مگر اندر سے ایک اجنبی ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔ وہ شاید برسوں سے ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ وہی شخص جسے ہم نے دنیا کو خوش رکھنے کے لیے خاموش کر دیا، جس کی خواہشوں کو مصلحتوں کے نیچے دفن کر دیا، جس کے سوالوں کو مصروفیات میں دبا دیا، اور جس کے زخموں پر کامیابیوں کے پردے ڈال دیے۔
ہم نے اپنے گرد اتنی آوازیں جمع کر لیں کہ اپنی روح کی آواز سنائی دینا ہی بند ہو گئی۔ موبائل کی گھنٹی، لوگوں کے پیغامات، دنیا کی خبریں، دوسروں کی زندگیاں، دوسروں کی کامیابیاں، دوسروں کے خواب۔۔۔ ہر طرف کسی نہ کسی کی آواز ہے۔ مگر ہماری اپنی آواز کہاں ہے؟ وہ جو کبھی رات کے آخری پہر ہمیں جگا کر پوچھتی تھی: "کیا یہی زندگی ہے جس کی تمہیں تلاش تھی؟” ہم اس سوال سے بھی بھاگتے رہے، کیونکہ کچھ سوال جواب نہیں مانگتے، وہ صرف انسان کو اس کی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ اور انسان اپنی حقیقت سے زیادہ دیر تک آنکھ نہیں ملا سکتا۔

ہم خود کو مصروف رکھتے ہیں تاکہ اپنے اندر نہ اترنا پڑے۔ ہم لوگوں میں بیٹھتے ہیں تاکہ اپنی تنہائی محسوس نہ ہو۔ ہم ہنستے ہیں تاکہ کوئی ہماری خاموشی نہ پڑھ لے۔ ہم محبت کرتے ہیں، مگر اکثر محبت میں بھی خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ہم عبادت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی عبادت میں بھی اپنے مطالبات لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر سوچتے ہیں کہ دل کو سکون کیوں نہیں ملتا؟ شاید اس لیے کہ سکون ہمیشہ چیزوں کے مل جانے سے نہیں آتا۔ کبھی کبھی سکون چیزوں کے چھن جانے کے بعد آتا ہے، جب انسان کے پاس اپنے بارے میں بنائی ہوئی تمام کہانیاں ختم ہو جائیں، جب وہ یہ مان لے کہ جسے وہ "میں” سمجھتا رہا، شاید وہ صرف ایک پردہ تھا، ایک ایسا پردہ جس کے پیچھے اصل وجود چھپا ہوا تھا۔

صوفیانہ سفر شاید یہی تو ہے۔۔۔ پردے ہٹنے کا سفر۔ ایک ایک کر کے۔ خواہش کا پردہ، انا کا پردہ، خوف کا پردہ، لوگوں کی رائے کا پردہ، دنیا سے اپنی پہچان بنانے کا پردہ، اور آخر میں وہ سب سے باریک پردہ۔۔۔ "میں” کا پردہ۔ انسان جب تک خود کو دیکھتا رہتا ہے، حقیقت اس سے اوجھل رہتی ہے۔ اور جب وہ خود کو دیکھنے والے سے آگے بڑھ کر اس حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے جس نے اسے وجود دیا، تب سفر کا رخ بدل جاتا ہے۔
تب سوال یہ نہیں رہتا کہ "میں کیا ہوں؟” بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے: "وہ کون ہے جس کے بغیر میرا ہونا بھی ممکن نہیں؟” شاید اسی مقام سے آئینہ بدل جاتا ہے۔ پہلے آئینے میں صرف اپنا چہرہ دکھائی دیتا تھا، پھر اپنے اندر کے زخم، پھر اپنی کمزوریاں، پھر اپنی حقیقت، اور آخرکار۔۔۔ وہ روشنی جس کے سامنے "میں” کا وجود بھی مدھم پڑنے لگتا ہے۔

شاید اسی کو فنا کہتے ہیں۔ مٹ جانا نہیں، بلکہ اُس جھوٹے وجود کا مٹ جانا جسے ہم نے ساری عمر اپنا اصل وجود سمجھا۔ اور شاید انسان کا سب سے خوبصورت سفر وہی ہے جب وہ دنیا سے کچھ پانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اندر سے کچھ چھوڑنے کے لیے سفر کرتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات منزل ہمیں کہیں دور نہیں ملتی۔ ہم صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنے اندر جمع کیے ہوئے پردے ہٹا دیتے ہیں۔۔۔ اور جو سامنے آتا ہے، وہ ہمیشہ سے وہیں موجود تھا۔

More posts