Baaghi TV

معاشرے میں تربیت کا ہونا کتنا ضروری ہے؟تحریر: طاہر محمود

معاشرہ عمارتوں، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتا، معاشرہ انسانوں کے کردار، اخلاق، رویوں اور ایک دوسرے کے احترام سے بنتا ہے۔ اور انسان کے کردار کی تعمیر میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہے۔ تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، مگر تربیت اسے انسان بناتی ہے۔

آج ہمارے پاس معلومات کی بھرمار ہے، ڈگریاں ہیں، ٹیکنالوجی ہے اور ترقی کے بے شمار وسائل ہیں، مگر اس کے باوجود معاشرے میں برداشت، اخلاق، احترام اور احساسِ ذمہ داری کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی نہیں بلکہ تربیت کا فقدان ہے۔

تربیت کا آغاز اسکول سے پہلے گھر سے ہوتا ہے۔ بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ اپنے والدین اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو کرتے دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں احترام، محبت، سچائی اور برداشت ہوگی تو یہی اقدار بچے کی شخصیت کا حصہ بنیں گی، لیکن اگر گھر میں بدتمیزی، جھوٹ، نفرت اور دوسروں کی تحقیر ہوگی تو یہی رویے اگلی نسل تک منتقل ہوں گے۔

ہم اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، بڑے عہدوں پر پہنچیں اور زندگی میں نام کمائیں، لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے؟ کیا ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ کمزور کے ساتھ عزت سے پیش آنا، اختلاف رکھنے والے کی رائے کا احترام کرنا، کسی کی مجبوری کا مذاق نہ اڑانا اور اپنے حق کے ساتھ دوسروں کے حق کا خیال رکھنا بھی کامیابی کا حصہ ہے؟

تربیت کے بغیر علم تکبر بن سکتا ہے، دولت غرور بن سکتی ہے اور اختیار ظلم بن سکتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اگر دوسروں کی عزت کرنا نہیں جانتا تو اس کی تعلیم ادھوری ہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کے رویے میں نظر آئے، اس کی زبان میں شائستگی پیدا کرے اور اسے دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنائے۔

آج سوشل میڈیا پر معمولی اختلاف بھی گالم گلوچ اور کردار کشی تک پہنچ جاتا ہے۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں اور اپنی رائے کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسرے کی عزت بھول جاتے ہیں۔ یہ رویہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو علم تو دے رہے ہیں، مگر برداشت اور اخلاق کا سبق کہاں دے رہے ہیں؟

معاشرے کی اصلاح کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ تبدیلی کا آغاز ہر گھر سے ہوسکتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈگریاں نہیں، کردار بھی دینا ہوگا؛ صرف کامیابی کا خواب نہیں، انسانیت کا شعور بھی دینا ہوگا۔

یاد رکھیے! اچھا معاشرہ قانون کے خوف سے نہیں، اچھے کردار سے بنتا ہے۔ اگر ہم ایک نسل کو اچھی تربیت دے دیں تو ہم صرف ایک نسل نہیں سنوارتے بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل بدل دیتے ہیں۔

آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو صرف کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں یا اچھا انسان بھی؟

کیونکہ عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، دولت ختم ہو سکتی ہے، عہدے چھن سکتے ہیں، مگر اچھا کردار وہ ورثہ ہے جو نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔

More posts