کبھی کبھی ایک واقعہ بظاہر اتنا عجیب ہوتا ہے کہ انسان اسے محض ایک خبر سمجھ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کراچی میں ایک خاتون کا مبینہ طور پر خود کو حاملہ ظاہر کرنا، ہسپتال پہنچ کر زچگی کا تاثر دینا اور پھر آپریشن ہوجانا بھی ایسا ہی واقعہ ہے۔ آپریشن کے بعد جب معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ ہی نہیں تھی تو ایک طرف اس کے جھوٹ نے سب کو حیران کردیا، دوسری طرف ہسپتال کے طریقۂ کار نے بھی کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے۔ یہ صرف ایک عورت کے جھوٹ کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، خاندان کے دباؤ، عزت کے تصور اور طبی نظام کی ذمہ داریوں کا آئینہ بھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق خاتون نے خود کو حاملہ ظاہر کیا اور مبینہ طور پر ایسی رپورٹ بھی پیش کی جس سے حمل ظاہر ہوتا تھا۔ اسے زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا اور اس کا آپریشن کردیا گیا، لیکن آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ رحم میں بچہ موجود ہی نہیں تھا۔ یوں وہ حقیقت جسے شاید کئی ماہ تک چھپایا جارہا تھا، ایک ایسے مرحلے پر سامنے آگئی جہاں اسے چھپانا ممکن ہی نہیں تھا۔یہاں سب سے پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک عورت نے ایسا جھوٹ کیوں بولا؟ اگر تحقیقات میں سامنے آنے والی اطلاعات درست ہیں کہ اس کا پہلے حمل ضائع ہوچکا تھا اور اس کے بعد وہ خاندان اور معاشرے کے دباؤ کا شکار ہوئی، تو اس پہلو کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے اولاد محض ذاتی خوشی نہیں بلکہ اکثر اس کی سماجی حیثیت کا پیمانہ بن جاتی ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد سوال شروع ہوجاتے ہیں کہ خوشخبری کب دے رہی ہو؟ پھر یہ سوال آہستہ آہستہ طعنوں میں بدل جاتے ہیں اور عورت کو احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید اس کی زندگی میں کوئی کمی ہے۔
حمل ضائع ہونے والی عورت کی کیفیت کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو اس دکھ سے گزرا ہو۔ ایک طرف بچے کے ضائع ہونے کا صدمہ، دوسری طرف خاندان کے سوالات، رشتہ داروں کے تبصرے اور معاشرے کا دباؤ۔ ایسے ماحول میں اگر ایک عورت حقیقت بتانے کے بجائے یہ فیصلہ کرے کہ وہ خود کو حاملہ ظاہر کرتی رہے گی تو ہمیں اس فیصلے کی حمایت تو نہیں کرنی چاہیے، لیکن اس کے پیچھے چھپے خوف کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسے سچ بولنے سے اتنا خوف کیوں محسوس ہوا؟
کیا اسے خدشہ تھا کہ خاندان اسے قبول نہیں کرے گا؟ کیا اسے طعنوں کا سامنا تھا؟ کیا اسے اپنی ازدواجی زندگی یا سماجی عزت کے بارے میں خوف تھا؟ یا وہ اس صدمے سے گزر رہی تھی جس نے اسے حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے ایک خیالی حقیقت میں جینا آسان محسوس کرایا؟
یہ سب سوال اس کے عمل کو درست ثابت نہیں کرتے۔ اگر اس نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا، جعلی رپورٹ بنوائی اور شوہر و خاندان کو دھوکا دیا تو اسے اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ایک عورت کو اولاد نہ ہونے پر مسلسل طعنے دینا، اسے کمتر سمجھنا یا اس کی عزت کو ماں بننے کے ساتھ جوڑ دینا بھی ایک معاشرتی زیادتی ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایسا جھوٹ آخر کب تک چھپ سکتا تھا؟ خاتون کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ حمل کا ایک اختتام ہوتا ہے۔ ایک دن آپریشن ہوگا، بچہ سامنے آنا ہوگا اور حقیقت سب کے سامنے آجائے گی۔ پھر ایسا قدم اٹھانے کے پیچھے آخر کون سا خوف یا دباؤ تھا جس نے اسے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ چند دن یا چند ماہ کی مصنوعی عزت حقیقت کے سامنے آنے سے بہتر ہے؟
یہیں سے معاملہ ہسپتال کی طرف بھی مڑتا ہے۔
اگر خاتون حاملہ نہیں تھی تو ہسپتال نے آپریشن سے پہلے اس کی آزادانہ طبی تصدیق کیوں نہیں کی؟ کیا الٹراساؤنڈ نہیں کیا گیا؟ کیا بچے کی دھڑکن، حمل کی عمر اور رحم میں بچے کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی گئی؟ اگر خاتون کوئی رپورٹ لے کر آئی تھی تو کیا ہسپتال کے پاس اپنی تشخیصی سہولت موجود نہیں تھی کہ اس رپورٹ کی تصدیق کرلیتا؟
مریض غلط بیانی کرسکتا ہے، جعلی رپورٹ لاسکتا ہے یا اپنے بارے میں غلط معلومات دے سکتا ہے، لیکن ڈاکٹر اور ہسپتال کا بنیادی فرض یہ ہے کہ علاج کا فیصلہ طبی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ اگر ایک غیرحاملہ خاتون کا آپریشن کسی غیرمصدقہ رپورٹ کی بنیاد پر کردیا گیا تو یہ ہسپتال اور متعلقہ ڈاکٹرز کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہسپتال میں حمل کی بنیادی تصدیق کے بغیر آپریشن کیا گیا تو کیا یہ محض غفلت تھی، یا اس میں مالی مفاد بھی شامل تھا؟ نجی ہسپتالوں کا اپنا کاروباری نظام ہوتا ہے اور آپریشن یقیناً ایک آمدنی کا ذریعہ بھی بنتا ہے، لیکن اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس واقعے میں ہسپتال نے پیسے کے لالچ میں جان بوجھ کر ایسا کیا۔ اس کا فیصلہ شفاف تحقیقات ہی کرسکتی ہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور ہونا چاہیے کہ کیا مریض کی ضرورت اور طبی تصدیق کو مالی مفاد پر کبھی ترجیح دی گئی؟
اگر تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہسپتال نے بنیادی طبی تصدیق کے بغیر آپریشن کیا تو خاتون کا جھوٹ ہسپتال کی ذمہ داری ختم نہیں کرسکتا۔ ایک مریض کا غلط بیان ڈاکٹر کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے بری نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہوجائے کہ خاتون نے جعلی دستاویز تیار کرکے دانستہ طور پر طبی عملے کو گمراہ کیا تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
اصل انصاف یہی ہے کہ ذمہ داری جس کی ہو، وہ اسی پر عائد ہو۔
اس واقعے میں ہمیں ایک اور بنیادی حقیقت بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اولاد نہ ہونا کوئی جرم نہیں، حمل ضائع ہوجانا کسی عورت کی ناکامی نہیں اور ماں بننا کسی عورت کی عزت کا واحد معیار نہیں۔ مگر ہمارا معاشرہ ان سادہ حقیقتوں کو قبول کرنے کے لیے اب بھی پوری طرح تیار نہیں۔ ہم خوشی میں شریک ہونے سے پہلے سوال کرتے ہیں، دکھ میں سہارا دینے سے پہلے مشورہ دیتے ہیں اور کسی کے ذاتی مسئلے کو بھی خاندان بھر کی بحث بنا دیتے ہیں۔
ہمیں اپنے گھروں سے یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ کسی بہن، بیٹی، بہو یا بیوی سے یہ سوال بار بار نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ کب ہوگا۔ اگر کسی کا حمل ضائع ہوجائے تو اسے تفتیش، طعنوں اور قیاس آرائیوں کے بجائے سہارا چاہیے۔ اگر کسی جوڑے کے ہاں اولاد نہیں ہورہی تو انہیں شرمندہ کرنے کے بجائے طبی مشورے اور جذباتی تعاون کی ضرورت ہے۔ عزت حقیقت چھپانے سے نہیں، انسان کی عزت کرنے سے قائم ہوتی ہے۔
اور ہسپتالوں کے لیے بھی اس واقعے میں ایک واضح سبق ہے۔ مریض کی فراہم کردہ معلومات ضروری ضرور ہیں، مگر حتمی طبی فیصلے اپنی تشخیص اور شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ہر آپریشن سے پہلے مطلوبہ تصدیقی مراحل کو یقینی بنانا، مشکوک دستاویزات کی جانچ کرنا، عملے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری طے کرنا اور ایسے واقعات کا شفاف احتساب کرنا ضروری ہے۔ علاج اگر خدمت ہے تو اس خدمت میں اعتماد سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
اس واقعے سے ہمیں اپنے معاشرے کے لیے ایک بڑا سبق لینا چاہیے۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں عورت کو اپنی زندگی کے کسی دکھ کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہ لینا پڑے، جہاں اولاد کو عزت کا پیمانہ نہ بنایا جائے اور جہاں خاندان مشکل وقت میں سوال کرنے کے بجائے سہارا بنے۔ اسی کے ساتھ طبی اداروں کو بھی یہ احساس دلانا ہوگا کہ مریض ان کے پاس صرف ایک گاہک نہیں بلکہ اعتماد لے کر آتا ہے، اور اس اعتماد کی قیمت کسی بھی مالی فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔
کراچی کا یہ واقعہ شاید چند دن بعد خبروں سے نکل جائے، مگر اس کا سبق ہمیں اپنی اجتماعی زندگی میں زندہ رکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے گھروں میں سوال کم اور احساس زیادہ کرنا ہوگا، طعنوں کے بجائے حوصلہ دینا ہوگا، اور عزت کے نام پر حقیقت چھپانے کے بجائے انسان کو سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ دوسری طرف ہسپتالوں میں علاج کو کاروبار سے بالاتر رکھتے ہوئے تشخیص، احتیاط اور مریض کی سلامتی کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
کیونکہ ایک عورت کا جھوٹ صرف اس عورت کی کہانی نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ پورے معاشرے کے رویوں سے جنم لیتا ہے۔ اور اگر ایک ہسپتال کی غفلت اس جھوٹ کو ایک خطرناک مرحلے تک پہنچا دے تو پھر ذمہ داری بھی صرف ایک فرد کی نہیں رہتی۔
ہمیں ایسے معاشرے کی تعمیر کرنا ہوگی جہاں کسی عورت کو ماں نہ بننے پر شرمندگی نہ ہو، کسی خاندان کو اولاد نہ ہونے پر طعنہ نہ دیا جائے، اور کسی مریض کی مجبوری کو کسی ادارے کی کمائی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ شاید یہی اس عجیب و غریب واقعے سے ملنے والا سب سے بڑا اور سب سے ضروری سبق ہے۔
