Baaghi TV

خدا کی خاموشی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

خدا مجھے سمجھ ہی نہ سکا، یا شاید میں ہی اسے سمجھنے میں بہت دیر کر گیا۔ اسے یہی لگتا رہا کہ میں اس کا نافرمان ہوں، اس کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوں، اس کے فیصلوں سے الجھ رہا ہوں، اس کی مرضی کے آگے اپنی مرضی رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر میری حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔ میری حیثیت تو اس کی کسی ادنیٰ مخلوق کے سامنے بھی اکڑ کر کھڑے ہونے کی نہیں تھی، میں اس کے سامنے کیا اکڑتا؟ میں تو بس یقین کر بیٹھا تھا کہ وہ علیٰ کل شئیٍ قدیر ہے۔

میں اس سے لڑ نہیں رہا تھا، میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ دو لمحے اس سے شکوہ کرتا اور اگلے چار لمحے رو دیتا۔ کبھی کہتا، تو مجھ سے اتنا دور کیوں ہے؟ کبھی خاموش ہو جاتا، جیسے شاید وہ میرے آنسوؤں کی زبان سمجھ لے گا۔ میں اسے اپنے اندر محسوس کرنا چاہتا تھا۔ کوئی دلیل نہیں، کوئی معجزہ نہیں، کوئی آسمان سے اترتی ہوئی آواز نہیں بس ایک احساس کہ ہاں میرا خدا میرے ساتھ ہے۔

مجھے شاید دوزخ میں جلنا بھی منظور تھا، اگر اس آگ میں مجھے یہ احساس مل جاتا کہ میرا خدا مجھ سے ناراض ہے۔ کم از کم ناراضی میں بھی تعلق تو ہوتا۔ سزا میں بھی ایک رشتہ ہوتا۔ میں سوچتا، اگر وہ مجھے سزا دے رہا ہے تو شاید وہ مجھے دیکھ رہا ہے، شاید میری طرف متوجہ ہے، شاید میں اس کی نظر میں اب بھی کہیں موجود ہوں۔ مگر اس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی۔

انسان کے لیے خدا کی ناراضی برداشت کرنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا خدا کی خاموشی برداشت کرنا ہے۔ ناراضی میں بھی ایک جواب ہوتا ہے، خاموشی میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آدمی سوال کرتا رہتا ہے، اپنے ہی سوالوں کے جواب بناتا رہتا ہے، پھر انہی جوابوں سے خود کو توڑتا رہتا ہے۔ میں بھی ٹوٹتا رہا۔

کبھی اپنے گناہوں کو دیکھتا تو لگتا شاید واقعی میں اس کے قابل نہیں۔ پھر اپنی تنہائی کو دیکھتا تو دل کہتا، اگر وہ واقعی میرا خدا ہے تو مجھے اتنا اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟ میں سجدے میں جاتا، کچھ مانگنے کے لیے نہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ دوسری طرف کوئی ہے بھی یا نہیں اور یہی میری سب سے بڑی بے بسی تھی۔

میں خدا سے دنیا نہیں مانگ رہا تھا۔ میں کامیابی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں دولت، شہرت، محبت، اقتدار، حتیٰ کہ جنت بھی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں تو صرف اس کا احساس مانگ رہا تھا۔ ایک ایسا احساس جس میں انسان اپنے اندر کے تمام شور سے آزاد ہو جائے اور اسے یقین ہو جائے کہ اس کائنات کے بے شمار چہروں کے درمیان ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اسے جانتی ہے۔

شاید انسان کی سب سے بڑی بھوک روٹی کی نہیں ہوتی، معنی کی ہوتی ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیوں ہے؟ کس کے لیے ہے؟ اس کے آنسو کس کے سامنے ہیں؟ اس کی دعائیں کہاں جاتی ہیں؟ اور جب وہ رات کے آخری پہر سب سے چھپ کر ٹوٹتا ہے تو کیا واقعی کوئی اسے دیکھ رہا ہوتا ہے؟

میں بھی یہی جاننا چاہتا تھا۔ اسی لیے میرے شکوے دراصل بغاوت نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے شخص کی فریاد تھے جو دروازہ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا، بلکہ دروازہ کھٹکھٹاتے کھٹکھٹاتے تھک گیا تھا۔ میں خدا سے دور نہیں جانا چاہتا تھا، میں تو اتنا قریب جانا چاہتا تھا کہ میرے اور اس کے درمیان سوال باقی نہ رہیں۔

مگر شاید ہم انسان قربت کو ہمیشہ اپنے طریقے سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں خدا ہمیں فوراً جواب دے، ہماری دعا اسی لمحے قبول ہو، ہماری زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلنے لگے، اور جب ایسا نہ ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ خدا ہم سے دور ہو گیا ہے۔

شاید خدا کی خاموشی ہمیشہ دوری نہیں ہوتی۔ شاید بعض اوقات وہ خاموش رہ کر انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں انسان خدا کو اپنی خواہشوں میں نہیں، اپنی بے بسی میں تلاش کرنا سیکھتا ہے۔

اور شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں خدا سے اس کا جواب مانگ رہا تھا، جبکہ وہ شاید مجھے میرے سوال سے نکال کر اپنے وجود تک لے جانا چاہتا تھا۔ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس خدا سے میں شکوہ کرتا رہا، اسی کے سامنے روتا رہا۔ جس سے ناراض ہوتا رہا، اسی کو پکارتا رہا۔ جس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی، اسی کی تلاش میں زندہ رہا۔

میں نے خدا کو چھوڑا نہیں تھا۔ میں صرف چاہتا تھا کہ ایک بار وہ مجھے یہ احساس دلا دے کہ میں بھی اس کا ہوں۔

More posts