دل ازاری ایک خاموش گناہ ہے۔ جو بسا اوقات زبان سے نہیں بلکہ رویوں سے جنم لیتی ہے۔ عبادت کا حسن تب مکمل ہوتا ہے ۔جب انسان اپنے رب کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کا بھی خیال رکھے ۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل کا محاسبہ کریں۔ جن لوگوں کو ہماری وجہ سے دکھ پہنچا۔ ان سے نرمی محبت اور خلوص کے ساتھ پیش ائیں۔ ان کے ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں ۔کیونکہ ٹوٹے دلوں کی اہیں انسان کو اندر سے بے سکون کر دیتی ہیں۔ جب کہ دل جوڑنا روح کو سکون بخشتا ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عبادت صرف پیشانی کے سجدے کا نام نہیں ۔بلکہ دل کی نرمی کردار کی خوبصورتی اور دوسروں کے لیے اسانی پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم لمبی دعائیں مانگے مگر کسی کی ا نسو کی وجہ بھی خود ہی ہو تو عبادت کی روح ادھوری محسوس ہوتی ہے ۔جو لوگ دوسروں کے زخم بھرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ ان کے دلوں میں بھی سکون اتارتا ہے۔ اس لیے سجدے میں گرنے سے پہلے اگر ممکن ہو تو ان لوگوں کو گلے لگا لیجئے ان سے معافی مانگ لیجئے یا کم از کم اپنے رویے میں نرمی لے ائیں کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹی سی محبت سے کی ہوئی بات کسی کی برسوں کے اذیت کم کر دیتی ہے ۔
انسان کی زندگی میں بعض اوقات انا غلط فہمیاں یا وقتی غصہ ایسے فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔ جو دلوں میں خاموش اذیت بھر دیتے ہیں۔ ہم اگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ہمارے الفاظ رویوں کا بوجھ اپنے دل میں لیے جیتے رہتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ انسان وقتاً فوقتا اپنے تعلقات کا جائزہ لے سوچے کہ کہیں اس کی وجہ سے کوئی دل شکستہ تو نہیں ایک محبت بھرا لفظ اچھا رویہ کئی بکھرے رشتوں کو پھر سے جوڑ سکتا ہے۔
