کسی بھی گھر کی دہلیز محض لکڑی یا لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ یہ تحفظ، اعتماد، خلوص اور خاندانی وقار کی وہ لکیر ہوتی ہے جس کے اندر انسان خود کو دنیا کے تمام طوفانوں سے محفوظ سمجھتا ہے۔ مگر جب یہی دہلیز کسی نوجوان بیٹے یا بیٹی کے لیے تحفظ کے بجائے قید خانہ بن جائے اور وہ رات کی تاریکی یا دن کے اجالے میں چپکے سے قدم باہر نکال کر فرار ہو جائیں، تو دراصل وہ صرف ایک مکان چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ رشتوں، خوابوں اور نسلوں کی عزت کے تار و پود بکھیر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے اور لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا سانحہ روز بروز ایک سنگین اور روح فرسا المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی سرخیاں ایسے اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہیں، مگر ہم بحیثیت مجموعی اس مسئلے کو محض چند لمحوں کے سنسنی خیز قصے یا وقتی بدنامی کے تذکرے تک محدود کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، کبھی اس کے پیچھے سلگتی ہوئی نفسیاتی آگ، خاندانی کھوکھلے پن اور سماجی بے حسی کو کریدنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
اعداد و شمار کی زبان میں اگر اس تلخ حقیقت کو دیکھا جائے تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں، چائلڈ پروٹیکشن بیوروز اور غیر سرکاری اداروں کے جائزے بتاتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نوعمر لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہی گھروں سے بھاگ کر سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور اجنبی بستیوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری ہیلپ لائنز پر درج ہونے والی گمشدگی اور فرار کی شکایات اس برفانی تودے کا محض بالائی حصہ ہیں، کیونکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خاندانی بدنامی کے خوف سے بیشمار واقعات تھانوں یا میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ اگر بڑے شہروں میں ریلوے اسٹیشنوں یا پناہ گاہوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فرار ہونے والے ان کمسن اور ناتجربہ کار بچوں میں سے ایک بڑی تعداد یا تو انسانی اسمگلروں اور گداگر مافیا کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، یا پھر تشدد اور استحصال کا شکار ہو کر اپنی شناخت ہی کھو بیٹھتی ہے۔ جو جوڑے پسند کی شادی یا رفاقت کے نام پر فرار ہوتے ہیں، ان میں سے ستر فیصد سے زائد چند ہی مہینوں کے اندر سنگین مالی بحران، قانونی مقدمات اور باہمی تلخیوں کے بعد شدید مایوسی اور خودکشی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار فقط جمع تفریق کے بے جان ہندسے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرتی نظام، خاندانی ڈھانچے اور پرورش کے انداز پر وہ سنگین سوالیہ نشان ہیں جن کا جواب دینے سے ہم سب کتراتے ہیں۔
اس خوفناک قدم کے پیچھے لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ مگر گہری نفسیاتی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں۔ لڑکی کے معاملے میں یہ فرار عموماً خوف، بے بسی اور گھٹن کا آخری دفاعی ردِعمل ہوتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں ایک بیٹی اپنے جذبات اور آرزوؤں کو ہمیشہ دل میں دبائے رکھتی ہے، مگر جب اسے یہ مکمل یقین دلا دیا جائے کہ اس کے مستقبل، تعلیم یا شریکِ حیات کے چناؤ میں اس کی مرضی کا کوئی دخل نہیں، اور خاندانی روایات یا نام نہاد انا کی قربان گاہ پر اس کی زندگی کی قربانی طے پا چکی ہے، تو اس کا شعور خوف کے شدید جھٹکے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر گھر کے ماحول میں بیٹیوں کو بیٹے کے مقابلے میں مسلسل کمتر جانا جائے، ان کی خوشیوں کو نظرانداز کیا جائے، اور گھر کے اندر محبت و شفقت کا قحط ہو، تو باہر کی دنیا سے ملنے والی معمولی توجہ، جھوٹی ہمدردی یا سستی محبت ان کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ کا دھوکہ بن جاتی ہے۔ نوعمری کی ناتجربہ کاری، جذباتیت اور رومانوی ڈراموں کے سحر میں مبتلا یہ لڑکیاں زمینی حقائق، قانونی پیچیدگیوں اور آنے والے خطرات کا اندازہ لگائے بغیر سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گھر کی قید سے نکلنا ہی ان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔
اس کے برعکس جب ایک لڑکا گھر چھوڑ کر بھاگتا ہے، تو اس کے نفسیاتی محرکات اکثر انا کی شکستگی، مسلسل تذلیل، اور ناقابلِ برداشت توقعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکے کو بچپن سے ہی کامیابی، روزگار اور خاندان کے سہارے کا استعارہ بنا کر دیکھا جاتا ہے۔ جب والدین اس کی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر روزانہ کی بنیاد پر دوسروں سے اس کا موازنہ کرتے ہیں، جب اسے بات بات پر ناکارہ اور نالائق کہہ کر اس کی خودداری کچلی جاتی ہے، یا امتحان میں ناکامی اور بے روزگاری پر مسلسل طعنوں کے نشتر برسائے جاتے ہیں، تو لڑکے کا اضطراب بغاوت کا روپ دھار لیتا ہے۔ وہ اپنی اہمیت ثابت کرنے یا اس تذلیل سے بھاگنے کے لیے گھر کی دہلیز پار کر جاتا ہے تاکہ وہ دنیا پر یہ ظاہر کر سکے کہ وہ تنہا بھی جی سکتا ہے۔ بعض اوقات کسی رشتے کی مخالفت، دوستوں کی غلط صحبت، مہم جوئی یا من مانی کی ضد بھی لڑکے کو اس نہج پر لے آتی ہے جہاں وہ اپنے خاندان کی عزت اور اپنے مستقبل کو لمحوں میں خاک میں ملا دیتا ہے۔
اس پورے المیے میں ہمارے معاشرے کا کردار انتہائی منافقانہ اور سفاکانہ رہا ہے۔ ہمارا سماج مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور دکھی خاندان کا ہاتھ تھامنے کے بجائے محفلوں میں چٹخارے لینے، افواہیں تراشنے اور انگلیاں اٹھانے کا عادی ہے۔ جب کسی گھر سے کوئی بچہ فرار ہوتا ہے، تو پڑوس سے لے کر رشتہ داروں تک سبھی اس بدقسمت گھرانے کو زندہ درگور کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، اس کے دیگر معصوم بہن بھائیوں کے رشتے روک دیے جاتے ہیں، اور والدین کو اس طرح نظروں سے گرایا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین گناہ کے مرتکب ہوئے ہوں۔ اگر کوئی بھٹکا ہوا بچہ اپنی غلطی کا ادراک کر کے پچھتاوے کے ساتھ واپس لوٹنا بھی چاہے، تو معاشرے کے تضحیک آمیز رویے، طعنے اور سرد مہر نگاہیں اس کی واپسی کے تمام راستے بند کر دیتی ہیں۔ ہم بحیثیت قوم ملامت کرنے میں بہت تیز ہیں مگر اصلاح، درگزر اور بحالی کے معاملے میں ہمارے پاس پتھر دل کے سوا کچھ نہیں۔ یہی معاشرتی بے حسی بچوں کو واپس آنے کے بجائے خودکشی یا جرائم کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو اس تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے والدین کو اپنے روایتی اندازِ تربیت اور رویوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ والدین کو یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے کہ گھر صرف قواعد و ضوابط نافذ کرنے والی جیل نہیں بلکہ محبت اور سکون کی آماجگاہ ہے۔ اولاد کے ساتھ دوستانہ اور شفاف مکالمے کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر ان سے کوئی سنگین غلطی بھی سرزد ہو جائے، یا ان کے دل میں کوئی الجھن یا غیر معمولی خواہش پیدا ہو، تو وہ مار پیٹ اور ردِعمل کے خوف کے بغیر سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس آ کر بات کر سکیں۔ جب گھر کے دروازے سننے اور سمجھنے کے لیے کھل جاتے ہیں، تو باہر فرار کی کوئی کھڑکی باقی نہیں بچتی۔ اولاد کی جائز رائے اور حقِ انتخاب کا احترام کریں، خاص طور پر ان کی شادی اور مستقبل کے معاملات میں ان کی خوشی کو خاندانی انا کے بتوں پر قربان مت کیجیے۔ بچوں کے درمیان تقابل اور مسلسل طعنہ زنی کا خاتمہ کیجیے، کیونکہ احساسِ کمتری انسان کو اپنوں سے دور اور غیروں کے قریب کر دیتا ہے۔
ہمیں اس المیے کی روک تھام کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور مساجد سے لے کر میڈیا تک، ہر سطح پر نوجوانوں کو جذباتیت اور حقیقت پسندی کے فرق سے روشناس کرانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ وقتی محبت کے جھوٹے سراب حقیقی زندگی کے کٹھن معاشی و سماجی حقائق کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں، اور والدین کا سایہ چھن جانے کے بعد بیرونی دنیا کا بے رحم سمندر کسی پر رحم نہیں کرتا۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی کونسلنگ، ذہنی صحت کے مراکز اور جبری فیصلوں کے خلاف قانونی تحفظ کے مؤثر نظام کو فعال کرے۔ خاندان اور معاشرہ اگر باہمی احترام، درگزر اور مکالمے کو اپنا شعار بنا لیں، تو نہ کسی بیٹی کو بے بس ہو کر چپکے سے نکلنا پڑے گا اور نہ ہی کسی بیٹے کو اپنی انا بچانے کے لیے گھر کی دہلیز چھوڑنی پڑے گی۔ ہمارے گھر جب تک محبت اور احساس سے آباد رہیں گے، تب تک ہماری نسلیں فرار کے اندھیروں میں بھٹکنے سے محفوظ رہیں گی۔
