پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے تین ماہ قبل منظور کیے گئے اراکین اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی ایکٹ 2026 کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان کو متعدد نئی مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کو صوبے بھر میں تمام ٹول ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت کو سفارش کی جائے گی کہ ارکان اسمبلی اور ان کی شریک حیات کو تاحیات سرکاری (بلیو) پاسپورٹ جاری کیے جائیں۔قانون کے تحت ارکان اسمبلی کے لیے غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کی تعداد آٹھ مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی کو سرکٹ ہاؤس، ریسٹ ہاؤس یا کسی بھی سرکاری رہائش گاہ میں تین روز تک مفت قیام کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ترمیمی ایکٹ میں ارکان کی سکیورٹی سے متعلق بھی نئی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ ہر رکن کو حالات اور ضرورت کے مطابق اے یا بی کیٹیگری سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
قانون میں ارکان کی حاضری اور نظم و ضبط کے حوالے سے بھی واضح شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایکٹ کے مطابق اگر کوئی رکن کسی مہینے کے دوران اسمبلی اجلاسوں میں تین چوتھائی سے زیادہ غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی تنخواہ روک دی جائے گی۔ اسی طرح کسی جرم میں سزا یافتہ قرار پانے والے رکن اسمبلی کی تنخواہ بھی معطل کردی جائے گی۔ترمیمی ایکٹ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں ان نئی مراعات پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف اسے منتخب نمائندوں کے لیے سہولیات قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مالی بوجھ اور عوامی مفاد کے تناظر میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
