کشمور (بیورو چیف) – کندھ کوٹ کے سول ہسپتال میں سرکاری ادویات کی بدترین چوری اور کرپشن مافیا کے بے لگام اقدامات سے غریب مریض خطرے میں ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ہسپتال اب علاج گاہ نہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں نہ ڈاکٹرز کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی مریضوں کی جان کی کوئی قیمت۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر نجی اسٹورز پر فروخت میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی ایچ او اور آفس سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی کے بغیر یہ کرپشن ممکن نہیں۔
گمشدہ اور مبینہ طور پر بازار میں فروخت ہونے والی ادویات میں شامل ہیں:
سیفٹریاکسون،میروپینم،وینکومائسن،انسولین،اینوکساپیرن،اومیپرازول،پیراسیٹامول انفیوژن،ہماکسل،انسولین 70/30،اسپیرٹ،پائیوڈین،وٹامن ڈی انجیکشن،پیناڈول سیرپ،سیفٹو انجیکشن.شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر کشمور اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈی ایچ او، آفس سپرنٹنڈنٹ، تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سمیت تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جا سکے اور ہسپتال کو لٹیروں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔
کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ
