کراچی میں گرمی کی شدت میں اچانک اضافے کے بعد شہر کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متاثرہ مریضوں کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال سمیت دیگر بڑے طبی مراکز میں روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ افراد لائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ افراد میں مزدور طبقہ، فیلڈ میں کام کرنے والے بائیک رائیڈرز اور ٹھیلے لگانے والے شامل ہیں، جو شدید دھوپ اور گرمی میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ایک سے دو گھنٹوں میں ڈسچارج کر دیا جاتا ہے، تاہم کچھ کیسز میں مزید نگرانی کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوا میں نمی کی کمی اور تیز دھوپ کے باعث جسم میں پانی کی کمی تیزی سے ہوتی ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں، زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی اور نمکیات کا استعمال کریں، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور خاص طور پر صبح 11 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں۔
انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو سر کو ڈھانپ کر رکھیں، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور سادہ غذا کا استعمال کریں جبکہ غیر معیاری اور کھلے عام دستیاب اشیاء سے پرہیز کریں۔
کراچی میں ہیٹ اسٹروک کیسز میں اضافہ، اسپتالوں میں مریضوں کا رش
