لاہورہائیکورٹ نے قصور پولیس کی ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح قرار دیا کہ معیاری اور قانون کے مطابق تفتیش کرانا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، عدالتوں کا کام پولیس کو تفتیش کے طریقہ کار سے متعلق ہدایات دینا نہیں،
جسٹس محمدطارق ندیم نے ملزم وحید سمیت دیگر کی عبوری درخواست ضمانت پرسماعت کی، عدالتی حکم پر ڈی پی او قصورآفتاب پھلروان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے مقدمے میں شامل دفعہ 452 پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈی پی او سے استفسار کیا کہ اس مقدمے میں سیکشن 452 کیسے بنتی ہے، اس پر ڈی پی او نےبتایا، بالکل نہیں بنتی، انہوں نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرکےڈی ایس پی چونیاں کے سپرد کی، جس کی رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ خارج کردیاگیاہے۔عدالت نے تفتیشی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ،آپ کے تفتیشی یہ کیا کر رہے ہیں،انویسٹی گیشن درست کروانا کیا آپ کا کام نہیں؟ ڈی پی اونے یقین دہانی کرائی کہ تفتیش درست انداز میں کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔تفتیشی افسران کی تعداد انتہائی کم ہے، جس کے باعث تفتیشی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بعد ازاں ڈی پی اوقصور نےمقدمہ خارج کرنے کی رپورٹ پیش کی۔ مقدمہ خارج ہونے کے بعد ملزمان کے وکیل نے عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دی گئیں
