لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست غیر ضروری قرار دے کر نمٹا دی اور درخواست گزار کے وکیل کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی نے صنم جاوید کے والد کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو رہائی کے بعد غیر قانونی طور پر دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ اسے 4 مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے فلک جاوید کو بازیاب کرا کے رہائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کو انسداد دہشت گردی عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دے رکھا ہے اور آج انہیں دو مرتبہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ درخواست کس طرح قابلِ سماعت ہے؟ عدالت نے ہدایت کی کہ وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں۔
جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت ریمانڈ کیس کا فیصلہ نہیں کر رہی، اگر ریمانڈ کو چیلنج کرنا ہے تو فلک جاوید کو دیے گئے ریمانڈ کو چیلنج کریں۔ عدالت کی ہدایت پر درخواست کو نمٹا دیا گیا۔
