اسپین کی فٹبال لیگ لالیگا کے صدر خاویر تیباس نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی پالیسیاں عالمی فٹبال اور اس سے وابستہ صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے دوران سامنے آنے والی مختلف تنازعات اور بے ضابطگیوں کے بعد جیانی انفینٹینو پہلے ہی تنقید کی زد میں تھے۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارش پر ایک امریکی کھلاڑی کی سزا ختم کی گئی، جس کے بعد ان کے فیصلوں پر مزید سوالات اٹھائے گئے۔
اب ورلڈ کپ 2026 کے اختتام کے بعد اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں لالیگا کے صدر خاویر تیباس نے کہا کہ انفینٹینو بین الاقوامی مقابلوں میں مسلسل اضافہ کر کے فٹبال کے مجموعی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی مقابلوں کی تعداد میں غیر ضروری توسیع قومی لیگز، کلبوں اور کھلاڑیوں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔
تیباس نے خاص طور پر 2030 کے فیفا ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی تجویز کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ورلڈ کپ فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ ہے، لیکن پوری فٹبال دنیا صرف اسی ایک ٹورنامنٹ کے گرد نہیں گھوم سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی لیگز ہی عالمی فٹبال کی اصل بنیاد ہیں، مگر فیفا صرف چند ہفتوں کے عالمی ٹورنامنٹ کو ترجیح دے کر ایسی پالیسیاں بنا رہا ہے جو ہزاروں ملازمتوں اور اربوں ڈالر کی فٹبال صنعت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
لالیگا کے صدر نے دعویٰ کیا کہ فٹبال کی دنیا میں بہت سے لوگ جیانی انفینٹینو کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، لیکن فیفا کے نظام اور رکن فیڈریشنز کی حمایت کے باعث ان کے خلاف کھل کر آواز نہیں اٹھاتے۔
دوسری جانب جنوبی امریکی فٹبال تنظیم نے بھی 2030 کے ورلڈ کپ میں 64 ٹیموں کی شمولیت کی باضابطہ تجویز پیش کر رکھی ہے، جبکہ یہ میگا ایونٹ پہلے ہی 6 میزبان ممالک اور 3 برِاعظموں میں منعقد ہونے والا ہے۔
لالیگا کا فیفا صدر جیانی انفینٹینو سے فوری استعفے کا مطالبہ
