بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے امریکی دفاعی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے جدید جنگی طیاروں کے دو نئے سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں دفاعی توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق اس معاہدے کی مالیت دسیوں ارب شیکل پر مشتمل ہے، جس کے تحت لاک ہیڈ مارٹن سے ایف-35 آئی کا چوتھا سکواڈرن جبکہ بوئنگ سے ایف-15 آئی اے کا دوسرا سکواڈرن حاصل کیا جائے گا۔ یہ منظوری وزارت دفاع کی سفارش پر وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے گزشتہ ہفتے دی۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے بعد آنے والے برسوں میں اسرائیلی فضائیہ کے پاس ایف-35 آئی طیاروں کی مجموعی تعداد تقریباً 100 تک پہنچ جائے گی، جبکہ ایف-15 آئی اے طیاروں کی تعداد 50 کے قریب ہو جائے گی۔ ایف-15 آئی اے کو جدید ایف-15 ای ایکس کا اسرائیلی ورژن قرار دیا جا رہا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر کارکردگی کا حامل ہوگا۔
ماہرین دفاع کے مطابق یہ پیش رفت اسرائیل کی فضائی برتری کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ جدید طیاروں کی شمولیت سے اسرائیلی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دفاعی معاہدے خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ دیگر ممالک بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اسرائیل کا ایف-35 اور ایف-15 طیاروں کے نئے سکواڈرن خریدنے کا فیصلہ
