مظفرآباد: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی مشترکہ پریس کانفرنس کو عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور حقائق کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پریس کانفرنس نے کالعدم کمیٹی کے مبینہ گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ ہسپتال کے واقعے میں پہل کالعدم کمیٹی کی جانب سے کی گئی، تاہم بعد ازاں جوابی کارروائی کو بنیاد بنا کر حقائق کے برعکس پروپیگنڈا کیا گیا۔ شہریوں کے مطابق پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے شواہد نے صورتحال کو واضح کر دیا اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا۔شہریوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض انتشار پسند عناصر نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھما کر اشتعال انگیزی اور بدامنی کو فروغ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
عوامی حلقوں نے الحاقِ پاکستان کے خلاف کسی بھی مطالبے یا بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے وابستگی کشمیری عوام کے ایمان، نظریے اور اجتماعی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے اس مؤقف کو ریاستی مفاد اور عوامی امنگوں کے مطابق قرار دیا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ قانونی اور آئینی معاملات کو طاقت یا تشدد کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ شرپسند عناصر اور انتشار پھیلانے والی کمیٹیوں سے دور رہیں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں۔عوام نے ریاستی معاملات پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے اور حقائق قوم کے سامنے لانے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور آزاد کشمیر کے عوام ریاستی استحکام، امن اور قانون کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے وقار کے خلاف کسی بھی سازش یا انتشار انگیز سرگرمی کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
