Baaghi TV

مجبور مخلوق سے کیا شکوہ،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

مجھے بہت طلب ہے خدا سے ملنے کی، شکوے بہت ہیں۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ انسانوں کی اس بھیڑ سے نکل کر کہیں دور بیٹھ جاؤں، جہاں کوئی سوال نہ ہو، کوئی وضاحت نہ دینی پڑے، کوئی یہ نہ پوچھے کہ تم اتنے خاموش کیوں ہو۔ بس میں ہوں اور میرا خدا ہو، اور میں اس کے سامنے بیٹھ کر وہ سب کہہ دوں جو برسوں سے دل میں جمع ہے۔

شکوے بہت ہیں، مگر سناؤں کس کو؟

جس سے شکوہ ہے، وہ خود بھی کسی نہ کسی امتحان میں مبتلا ہے۔ جس سے امید ہے، وہ خود کسی اور سے امید لگائے بیٹھا ہے۔ جسے اپنا سمجھتا ہوں، ضروری نہیں کہ وہ میری خاموشی بھی سمجھتا ہو۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے؛ یہاں ہر شخص دوسرے کے زخم دیکھنے سے پہلے اپنے زخم چھپانے میں مصروف ہے۔

پھر میں نے سوچا، شکوہ آخر کیا جائے تو کس سے کیا جائے؟

ایک ہی تو ہے جس کے بارے میں میرا ایمان ہے کہ *عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ* — ہر چیز پر قادر۔

باقی سب تو مجبور مخلوق ہیں۔

کوئی چاہ کر بھی میرے نصیب کی لکیر نہیں بدل سکتا۔ کوئی چاہ کر بھی میرے دل کا بوجھ اپنے سینے میں منتقل نہیں کر سکتا۔ کوئی میرے آنسو دیکھ کر بھی اس درد کو ختم نہیں کر سکتا جو آنکھ سے نہیں، اندر سے بہتا ہے۔ لوگ تسلی دے سکتے ہیں، سہارا دے سکتے ہیں، ہاتھ پکڑ سکتے ہیں، مگر اختیارِ کامل کسی کے پاس نہیں۔

اسی لیے اب کبھی کبھی لوگوں سے شکایت کرتے ہوئے خود پر ہنسی آتی ہے۔

جس شخص کے پاس خود اپنی زندگی کا مکمل اختیار نہیں، میں اسے اپنی زندگی کا جواب دہ کیوں سمجھوں؟

شاید ہم انسانوں کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم مخلوق سے وہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو صرف خالق سے ہونی چاہئیں۔ ہم چاہتے ہیں کوئی ہمیں مکمل سمجھے، ہماری خاموشی پڑھ لے، ہمارے بغیر کہے درد جان لے، ہمیں کبھی نہ چھوڑے، کبھی نہ بدلے، کبھی ہماری امید نہ توڑے۔

مگر انسان، انسان ہے۔

وہ بھی تھکتا ہے، بدلتا ہے، بھولتا ہے، مجبور ہوتا ہے اور کبھی کبھی چاہ کر بھی وہ نہیں کر پاتا جو ہم اس سے چاہتے ہیں۔

پھر شکوہ کس بات کا؟

شاید اسی لیے خدا سے ملنے کی طلب بڑھتی جاتی ہے۔

نہیں معلوم خدا سے ملنا کیسا ہوگا، مگر تصور کرتا ہوں تو لگتا ہے شاید وہاں مجھے اپنے الفاظ ڈھونڈنے نہیں پڑیں گے۔ شاید وہاں خاموشی بھی ایک مکمل گفتگو ہوگی۔ شاید وہاں مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ میں کیوں ٹوٹا، کب ٹوٹا اور کس نے توڑا۔

وہ تو اُس وقت بھی جانتا تھا جب میں خود اپنے درد کا نام نہیں جانتا تھا۔

ہم دنیا کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، مگر خدا کے سامنے شاید مضبوط ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔ وہاں انسان اپنے تمام پردے اتار سکتا ہے۔ وہاں وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں، میں تھک گیا ہوں۔ ہاں، مجھے دکھ ہوا ہے۔ ہاں، میں سمجھ نہیں پا رہا۔ ہاں، مجھے شکایت ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ خدا کے سامنے شکوہ کرنے کے لیے الفاظ کا خوبصورت ہونا بھی ضروری نہیں۔

ٹوٹا ہوا جملہ بھی دعا بن سکتا ہے۔

ایک آنسو بھی فریاد ہو سکتا ہے۔

ایک خاموشی بھی پوری گفتگو بن سکتی ہے۔

اسی لیے اب دل چاہتا ہے کہ لوگوں سے شکوے کم کیے جائیں۔ جنہوں نے تکلیف دی، انہیں بھی خدا کے حوالے کیا جائے۔ جنہوں نے چھوڑ دیا، انہیں بھی۔ جنہوں نے سمجھا نہیں، انہیں بھی۔

کیونکہ آخرکار ہم سب مجبور مخلوق ہیں۔

اور جس سے شکوہ کرنا ہے، جس سے سوال کرنا ہے، جس کے سامنے دل کھول کر رکھنا ہے، وہ ایک ہی ہے۔

*مجھے بہت طلب ہے خدا سے ملنے کی، شکوے بہت ہیں۔*

باقی مجبور مخلوق کو کیوں سناؤں شکوے؟

وہ میرے درد کا سبب ہو سکتی ہے، مگر میرے درد کا علاج نہیں۔

*علاج تو اسی کے پاس ہے جسے میں اپنا خدا کہتا ہوں۔*

More posts