پمز میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
انکوائری کمیٹی پمز میں موجود فائر سیفٹی انفرااسٹرکچر، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ ضوابط پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی واقعے کے فوری اسباب، واقعات کی مکمل ٹائم لائن اور آتشزدگی کے دوران اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لے گی۔
کمیٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ واقعے میں کسی فرد یا ادارے کی جانب سے غفلت یا کوتاہی ہوئی یا نہیں، اور اگر کسی کی ذمہ داری سامنے آئی تو اس کا تعین کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی۔
انکوائری کمیٹی نومولود بچوں کی منتقلی، خصوصاً ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کے ہنگامی انخلا کے لیے موجود ایس او پیز اور ان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق سہولیات، آلات اور حفاظتی نظام کی دستیابی اور کارکردگی کو بھی جانچا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اصلاحات اور قابل عمل اقدامات کی سفارشات بھی مرتب کرے گی۔ انکوائری کمیٹی 48 گھنٹوں کے اندر اپنی عبوری رپورٹ اور سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، جبکہ مکمل تحقیقات پر مشتمل جامع رپورٹ پانچ روز میں وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
وزارت قومی صحت کو انکوائری کمیٹی کو فوری طور پر ضروری معاونت اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے تاکہ واقعے کی تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کی جاسکیں۔
