کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں کار سے ملنے والی لاش کے پراسرار کیس کو پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے حل کرتے ہوئے مبینہ مرکزی ملزم اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے قرض داروں سے بچنے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا اور اس منصوبے کو کامیاب بنانے کی غرض سے ایک بے گناہ شہری کو قتل کر دیا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق گرفتار ہونے والا مرکزی ملزم ذیشان مالی مشکلات اور قرضوں کے دباؤ کا شکار تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قرض خواہوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی جعلی موت کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے ایک شہری کو قتل کر کے اس کی لاش اپنی گاڑی میں چھوڑ دی تاکہ اسے اپنی لاش ظاہر کیا جا سکے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر لاش کی شناخت میں مشکلات پیش آئیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک ریکارڈ، فرانزک شواہد اور ٹیکنیکل تجزیے کی مدد سے مقتول کی اصل شناخت کر لی گئی، جس کے بعد تفتیش کا رخ بدل گیا اور اصل ملزم تک رسائی ممکن ہوئی۔
ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ذیشان نے اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لیا تھا، لیکن پولیس نے ٹیکنیکل شواہد اور ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس کا سراغ لگا کر اسے اس کے ساتھی سمیت گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق دونوں ملزمان سے تفصیلی تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کی منصوبہ بندی، اس میں شامل دیگر ممکنہ افراد اور واقعے کے تمام پہلوؤں سے پردہ اٹھایا جا سکے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
پولیس نے اس کیس کو جدید تفتیشی نظام کی بدولت حل ہونے والی اہم کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سے بچنے کے لیے اختیار کیے گئے ایسے مجرمانہ ہتھکنڈوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے گا اور ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قرض سے بچنے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ، بے گناہ شہری کے قتل کا معمہ حل
