Baaghi TV


نئی دہلی میں طلبہ تحریک کا بڑا مارچ، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

‎بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کی جانب سے ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
‎رپورٹس کے مطابق احتجاج میں 10 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جو اب تک اس تحریک کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی کے خاتمے اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
‎یہ احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ہفتے کے روز 59 سالہ سماجی کارکن سونم وانگچک کو، جو گزشتہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر تھے، حکام نے ان کی مرضی کے بغیر اسپتال منتقل کر دیا۔ وانگچک امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔
‎مظاہرین نے مارچ کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی جائیں۔
‎احتجاج میں شریک ایک خاتون مظاہر نے کہا کہ موجودہ نظام نوجوانوں کے مسائل سننے اور ان کے تحفظات دور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔
‎دوسری جانب بھارتی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے دو نمائندہ کارکنوں کو وزیرِ صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ تاہم تحریک کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت اسی صورت میں مؤثر ہوگی جب طلبہ کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
‎واضح رہے کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک نوجوانوں کی احتجاجی تحریک ہے، جس نے اپنے نام کا انتخاب حکمران جماعت پر طنز کے طور پر کیا ہے۔ یہ تحریک گزشتہ چند ماہ سے امتحانی نظام میں مبینہ کرپشن، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے لیے سرگرم ہے۔

More posts