Baaghi TV


ایران اور امریکا کے درمیان عبوری معاہدے کی بحالی کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز

‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث ممالک نے ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی سفارش کی گئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا، فوجی کارروائیوں کا سلسلہ روکنا اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
‎برطانوی نشریاتی ادارے اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ثالثی کی کوششوں میں شامل ممالک نے ایران اور امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کم از کم 10 دن کے لیے تمام حملے روک دیں تاکہ اعتماد سازی کا ماحول پیدا ہو سکے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقفے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود عبوری مفاہمتی معاہدے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
‎رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ متعدد حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات کے باعث نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں ثالث ممالک کا خیال ہے کہ وقتی جنگ بندی مستقبل میں کسی بڑے تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
‎ذرائع کے مطابق مجوزہ 10 روزہ جنگ بندی کے دوران سفارتی رابطوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور ایسے نکات پر بات چیت ہوگی جن کی بنیاد پر مستقل جنگ بندی اور وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اس دوران اعتماد سازی کے اقدامات، علاقائی سلامتی اور دیگر متنازع امور بھی زیر غور آنے کا امکان ہے۔
‎اب تک ایران اور امریکا کی جانب سے اس تجویز پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں مذاکرات کی طرف واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تجویز قبول کر لی جاتی ہے تو نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

More posts