امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔
قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔
امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔
امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔
