رپورٹ، خنیس الرحمان
گزشتہ روز ایچ ایٹ کی حدود میں مبینہ طور پر جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے پرنسپل ڈاکٹر حفیظ الرحمان کے اغواء کے حوالے سے جامعہ سلفیہ میں مختلف دینی، مذہبی اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور قائدین کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر بھر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، جامعہ سلفیہ، مرکزی جمعیت اہلحدیث، جمعیت علمائے اسلام، تحریک تحفظِ مدارس و مساجد، تحفظِ حقوقِ علمائے اوقاف، سپریم کونسل پاکستان سمیت مختلف دینی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوئے۔شرکائے اجلاس نے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے مبینہ اغوا کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنتے ہیں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کی فوری تحقیقات کرتے ہوئے حقائق قوم کے سامنے لائیں۔اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
اجلاس میں خطاب کرنے والے مقررین نے کہا کہ اگر مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو مختلف دینی و مذہبی جماعتیں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔ مقررین کے مطابق احتجاجی اقدامات بھی زیر غور ہیں جن میں اسلام آباد میں احتجاج اور سڑکوں کی بندش شامل ہو سکتی ہے۔اجلاس کے بعد شرکاء کی جانب سے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی رہائی کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔ مجمع نے "پاکستان زندہ باد” اور "ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو رہا کرو” کے نعرے لگا کر اپنے مطالبات کا اعادہ کیا۔شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاملے کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور تمام اقدامات آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیے جائیں گے۔
یاد رہے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو ان کی اہلیہ کی موجودگی میں اسلام آباد ایچ ای سی کے باہر سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواء کیا ۔ڈاکٹر حفیظ الرحمان جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے پرنسپل اور جامع مسجد محمدی جی نائن میں محکمہ اوقاف کے خطیب ہیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث اسلام آباد کے ناظم تعلیمات ہیں ۔
