Baaghi TV

تو سلامت وطن، تاقیامت وطن،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

اپنی علمی و ادبی مصروفیت کے سلسلے میں میرا اکثر و بیشتر شہر سے باہر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ حسب ِمعمول گزشتہ سال 14 اگست کو ایک ادبی تنظیم کے زیرِِ اہتمام بمناسبت یومِ آزادی اور تقسیمِ انعامات ایک تقریب لاہور میں منعقد ہوئی۔ جس میں ناچیز کو بھی مدعو کیا گیا۔ یومِ آزادی اور لاہور کا نام سنتے ہی منٹو پارک لاہور میں دیکھے گئے ایک خواب اور اس کی تعبیر کے لئیے ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کا خیال ذہن میں آیا۔ جس میں آزادی کے متوالوں نے ایثار و قربانی کی ایک لازوال تاریخ رقم کر دی ۔میں نے بلا تردد رختِ سفر باندھنے کا ارادہ کیا۔ اور اسوقت وطن کی خاطر ہجرت کرنے والوں کی یاد میں ذاتی سواری کی بجائے ریل گاڑی سے سفر کا فیصلہ کیا۔

14 اگست 2025ء کو صبح فجر کے بعد گھر سے اپنے بھائی اور چھوٹی بہنا کے ہمراہ فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی او ر ٹکٹ لے کر اپنی سیٹ پہ بیٹھ کر ریل گاڑی کے چلنے کا انتظار کرنے لگی۔ صبح سویرے کالے بادل نمی بھری ہوا کے ساتھ محوِ رقص تھے۔ سامنے موجود ایک کینٹین پر پاکستان کا ایک چھوٹا سا جھنڈا لہرا رہا تھا،۔ جس پکتی ہوئی چائے کی خوشبو پورے پلیٹ فارم پہ پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے ایک کپ چائے منگوائی ۔ اور ریل گاڑی چل پڑی۔ مناظر رفتہ رفتہ پیچھے کی طرف دوڑنے لگے۔ اور ساتھ ہی خیالات بھی۔

کیا ہی خواب تھا آزادی کا خواب ، جو ایک رہنما نے دیکھا تھا۔ اور اس خواب کی تعبیر پانےکے لئیے اپنے رہنما کی جدوجہد پہ اعتماد کرتے ہوئے لوگ اپنے گھر بار ، مال مویشی ، کاروبار چھوڑ کر ہجرت کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا، حالات بتا تو رہے تھے۔ کہ ان میں سے کئی منزل تک نہ پہنچ پائیں گے۔ مگر وہ متوالے، آزادی کے دیوانے تھے۔کہیں راستے میں رہائشی علاقوں سے گزرتے ہوئے بچوں کے باجا بجانے کی آواز سے خیالات میں خلل آجاتا تو کہیں بارش کی بوندیں حال میں واپس لے آتیں ۔ یوں بادلوں کے سنگ ہم لاہور پہنچ گئے۔

تقریب لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں تھی۔ پہلے پُرتکلف ناشتہ ہوا ۔ پھر بینڈ پہ قومی ترانے کی پر جوش دھن کے ساتھ پرچم کشائی کی شاندار تقریب ہوئی۔ تقریب کا آغاز باقاعدہ کلام پاک سے ہوا۔ تمام ادبی احباب نے اپنے الفاظ میں وطنِ عزیز سے محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔ شعراء اکرام نے اپنی شاعری سے خون گرمایا۔ اس کے بعد تقیسمِ انعامات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مجھے بھی میری علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں سند و ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ تقریب سے فارغ ہو کر مصورِ پاکستان کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔ "منٹو پارک” کے مینارِ پاکستان کو دیر تک خاموش کھڑی تکتے ہوئے اس کی خاموشی میں موجود ایک سخن انگیز داستانِ عشق کو محسوس کرتی رہی۔ کتنے ہی عشروں کا وہ چشم دید گواہ جیسے ہمیں ہماری بنیاد، قربانیوں اور اصل مقصد کی یاد دلا رہا ہو۔۔۔۔ اور پھر ہم جذبہِ حب الوطنی سے سرشار شام کی ریل گاڑی کے ذریعے واپس روانہ ہوئے۔

موسم خوشگوار تھا۔ اور بادل اب بھی ہمارے ہمراہی تھے۔ تھکن کی وجہ سے میں نے سر سیٹ کی پشت سے ٹیکا کر جیسے ہی آنکھیں بند کیں۔ خیالات نے مجھے پھر سے آ لیا۔ اللہ پاک درجات بلند فرمائیں ہماری نانی جان بتایا کرتیں تھیں۔ کہ جب اطلاع ملتی کہ مہاجرین کو لے کر ایک بھری ہوئی ریل گاڑی آ رہی ہے۔ تو ہمارے لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لئیے اسٹیشن پر جاتے۔ ریل تو بھری ہوئی ہی آتی۔ مگر بے جان ، سانس سے عاری خون میں لت پت بکھری لاشوں سے۔ گرم جوشی سے خوش آمدید کہنے والے تو یہاں کئی ہوتے ۔ مگر جواب دینے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔ وہ پھولوں کے ہار کیا وصول کرتے جن کے جسموں کے اعضاء وطن پہ نثار ہو کر جابجا پھولوں کی طرح بکھرے پڑے ہوتے ۔ میرے چہرے پہ بارشوں کی بوندیں محسوس ہوئیں ۔ شاید آسمان بھی میری آنکھوں سے بہتی نمی کا ساتھ دے رہا تھا۔

میں نے کھڑکی سے باہر دوڑتے ہوئے مناظر کو دیکھا تو ریل دریائے راوی کے پل سے گزر رہی تھی۔ آہ ۔۔۔آزادی کی خاطر ہجرت کرنے والوں پہ کتنا کڑا وقت گزرا تھا۔ نیچے بپھرا ہوا راوی، اوپر تپش فشاں سورج اور مستقبل سے بے خبر آزادی کے پروانے، جو ایک آزاد وطن کے خواب کو سینے سے لگائے ہر آزمائش سے نبرد آزما تھے۔

میں نے اپنے سامنے پڑا اپنے شانِ پاکستان ایوارڈ کو دیکھا اور سوچنے لگی۔ کہ یہ آزاد وطن ہمیں کتنی ہی گمنام قربانیوں کے صلے میں عطا ہوا ہے۔ میں نے اک نئے ولولے سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے دل میں کہا، اے پیارے وطن! ہماری پہچان تم سے ہے۔ اگرچہ حالات ہمیں آزما رہے ہیں۔ مگر ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم تمہارا نام روشن کریں گے۔ ان شاءاللہ تمہارا پرچم ہمیشہ سربلند اور دنیا میں لہراتا رہے گے۔
ریل کسی پھاٹک پر آہستہ ہوئی۔ تو باہر غالباً کسی لوڈر رکشہ میں اسپیکر پر ترانہ چل رہا تھا؛

؎ تو سلامت وطن ، تاقیامت وطن
اس جہاں میں ہماری علامت وطن

آنسو پونچھتے ہوئے میرے لبوں سے بے اختیار نکلا;
آمین ثم آمین

More posts