Baaghi TV

ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی آخری قسط کو روکنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر

پاکستان کے معروف ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو کی آخری قسط رکوانے کے لئے ماہم نامی لڑکی نے در خواست دائر کر دی

لاہور کی عدالت میں ماہم جمشید بٹ نے پیمرا پنجاب فلم سینسر بورڈ اے آر وائے ڈیجیٹل میرے پاس تم ہو کے ڈائریکٹر ندیم بیگ اور مذکورہ ڈارمہ کے پروڈیوسر ہمایوں سعید کے خلاف درخواست دائر کردی

ماہم جمشید نے وکیل ماجد چوہدری کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈرامے میں عورت کی تضحیک کی جا رہی ہے

خاتون کی درخواست پر عدالت نے پیمرا، فلم سینسر بورڈ، ٹی وی چینل کی انتطامیہ اور ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم کو طلب کرلیا

درخواست میں ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو ڈرامے کے بارے میں مکمل تفصیل سے بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈرامہ سیریل میرے پا س تم ہو 17 اگست 2019 کو اے آر وائی ڈیجیٹل ٹی وی چینل پر آن ائیر ہوا جس کولکھا خلیل الرحمن قمر نے لکھا ہے جبکہ پروڈیوس ہمایوں سعید نے کیا ہے اور ڈائریکشن ندیم بیگ نے دی ہے

ڈرامے کی کہانی میں میں تضحیک کرنے کے ساتھ معاشرے میں مرد اور عورت مے درمیان ایک بڑا امتیازی فرق کی گیا ہے کہانی کے رائٹر نے تنگ ذہنی دکجاتے ہوئے عورت کے عزت وقار کو مجروھ‌کیا ہے جو کہ بہت ہی بے عزتی کی بات ہے

میرے پاس تم ہو ڈرامہ کی آخری قسط سینما گھروں میں دکھائی جائے گی


یقیناً یہ اس طرح کا جس میں عورت کی تضحیک کی ججائے پہلا ڈرامہ ہے جس کو سینما کی بڑے سکرین پر 25 جنوری 2020 کو دکھایا جا ئے گا یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ عام معاشرے میں مواد دوسروں کے لیے تنگ دل کا باعث بن سکتا ہے اور سماج کا امن و امان خراب ہونے کا خدشہ ہے

خاتون نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ڈرامے نے پاکستانی خواتین میں مثبت خیالات پیدا نہیں کیے بلکہ ڈرامے کے ذریعے زن بیزاری کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے

ماہم جمشید نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایات دے کہ ڈرامے کی آخری قسط کو نشر کرنے سے روکا جائے


میرے پاس تم ہو’ کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی جبکہ اس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہے ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے مرکزی کردار نبھائے جبکہ شیث گل، حرا مانی، انوشے عباسی، سویرا ندیم، مہر بانو اور سید محمد احمد نے اہم کردار نبھائے

اس ڈرامے کی کہانی ہمایوں سعید کے کردار ‘دانش’ سے شروع ہوتی ہے جو اپنی بیوی مہوش سے بےحد محبت کرتا ہے، ان دونوں کا ایک بیٹا رومی بھی ہے دانش اپنی فیملی سے بےحد محبت کرتا ہے اور ہر حال میں خوش رہنے کی کوشش کے ساتھ ایک عام زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے وہیں مہوش امیر ہونے کی خواہشمند ہے اور اپنی دوست مہر بانو سے پیسے ادھار لیتی رہتی ہے

ایک روز مہوش کی ملاقات مہر بانو کے بھائی کے باس شہوار سے ہوتی شہوار کو مہوش کی خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے جس کے بعد ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا اور وقت گزرنے کے بعد شہوار مہوش کو اپنے دفتر میں کام کرنے کی آفر دیتا جسے مہوش قبول کرلیتی

اس ہی دوران شہوار اور اس کی دولت سے متاثر ہونے والی مہوش اپنے شوہر دانش کو دھوکا دیتی اور اس سے طلاق لےکر بغیر شادی شہوار کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کردیتی بعدازاں ایک روز جب یہ دونوں شادی کرنے ہی جارہے تھے تب شہوار کی پہلی اہلیہ ماہم امریکا سے پاکستان واپس آجاتی اور شہوار کو گرفتار کروا کر مہوش کو بے عزت کر کے گھر سے نکال دیتی ہیں جس کے بعد مہوش کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور وہ ہمایوں سعید سے معافی مانگ کر اس کے پاس واپس جانے کی کوشش کرنے لگتی ہیں

دوسری جانب ہمایوں سعید اپنے بیٹے کو اس دوران بورڈنگ اسکول بھیج دیتا ہے جہاں اس کی ملاقات اس کی ٹیچر ہانیہ سے ہوتی ہے جو بعد میں دانش کو پسند کرنے لگتی ہیں

دانش اپنی سرکاری نوکری چھوڑ دیتا ہے اور اپنا گھر فروخت کر کے کر پیسہ اسٹاک ایکسچینج میں لگا کر شہوار انڈسٹری کے شیئرز خرید لیتا ہے جس سے اسے کامیابی ملتی ہے اور اس کے دن بدل جاتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر باقاعدہ کاروبار شروع کردیتا ہے

اس کی آخری قسط سینما میں دکھائی جانی تھی لیکن اب ڈرامے کی آخری میگا قسط روکنے کے لئے ماہم جمشید نے درخواست دائر کر دی
ہے

More posts