Baaghi TV

میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

israel

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے زیرِ اہتمام دوحہ میں غزہ کے معاملے پر منعقدہ فورم میں کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بعد فورم میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک اچھا آغاز ضرور ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہےحالیہ بات چیت بالواسطہ تھی اور اس میں میزائل یا دیگر دفاعی معاملات شامل زیرِ غور نہیں آئے یورینیم افزودگی پر پابندی ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبو ل نہیں، یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ عمل جاری رہے گا، امریکا بمباری کے ذریعے بھی ایران کی اس صلاحیت کو ختم نہیں کرسکا ہے۔

عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جوہری معا ملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے تاہم میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

امریکی حملے کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں میں فرق کرتا ہے اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا جنگ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے کی صبح عمان کی ثالثی میں اس کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا تھا یہ بات چیت چند گھنٹے جاری رہی، اس دوران دونوں فریقین نے اپنے مؤقف عمان کے وزیرِ خارجہ کےذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے دونوں ملکوں کے وفود نے مشا ورت کے لیے ایک دن کا وقفہ لیا ہے عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوسرے دور میں بھی عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

More posts