اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2026” کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر حکومت کو کئی اہم اور مشکل فیصلے کرنا پڑے تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اہم شعبوں کو توانائی کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بڑھتے ہوئے توانائی اخراجات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے مستحق طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔
وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان نے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں موجودہ عالمی بحران کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امن و امان کے مسائل سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی حکومت نے پیشگی منصوبہ بندی کی ہے اور قرضوں کے بروقت انتظام کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ ملک کا معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، وزیر خزانہ
