لاہور: گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کے حق میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
گلوکارہ میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے سیشن کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے، پہلے سیشن کورٹ کے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کی جائے گی، اور اس کا تفصیلی قانونی جائزہ لیا جائے گاتمام قانونی نکات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے میں میشا شفیع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا یہ کیس 2018 میں سامنے آنے والے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا اور کئی برسوں تک عدالت میں زیر سماعت رہا،مقدمے کی طوالت میں 283 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، کیس کی سماعت کے دوران 8 سالوں میں 9 بار جج تبدیل ہوئے، اور بالآخر عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ میشا شفیع کا 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف کیا گیا ٹوئٹ ہتک آمیز، غلط اور جھوٹا ثابت ہوا۔ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ جبکہ درخواست گزار عزت نفس مجروح ہونے، شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی ازیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کا حق دار ہے،میشا شفیع سوشل میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات نہیں لگائیں گی۔
