Baaghi TV

تاریخی دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا یہ فیصلہ اور معاہدہ نہ صرف باہمی دفاعی تعاون کی ایک مضبوط مثال بنے گا بلکہ عالمِ اسلام کے اتحاد، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔اس لیے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں اپنی جغرافیائی، دفاعی اور تزویراتی اہمیت کے اعتبار سے اسلامی دنیا کے انتہائی موثر ممالک ہیں۔ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت، پیشہ ور افواج اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع کا حامل ملک ہے، جبکہ ترکیہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث خطے کی سیاست اور دفاعی صنعت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب عالمِ اسلام کا روحانی مرکز، توانائی کا عالمی محور اور مشرقِ وسطی میں ایک موثر تزویراتی قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تینوں ممالک کا مشترکہ دفاعی تعاون خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دے گا اور بیرونی جارحیت کے امکانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔تینوں ممالک کا یہ اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی کے تصور کو عملی شکل دینے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے مسلم دنیا میں اتحاد و یکجہتی کی نئی فضا پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تعاون دفاعی شعبے کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، سائنسی تحقیق، جدیدٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار اور تعلیمی میدان تک بھی وسعت اختیار کرتا ہے تو اس کے دور رس اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری امتِ مسلمہ پر مرتب ہوں گے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں دیگر اسلامی ممالک کی شمولیت سے یہ اتحاد ایک موثر علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جو عالمِ اسلام کے اجتماعی مفادات کے تحفظ، امن کے فروغ اور باوقار عالمی کردار کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔

More posts