Baaghi TV

محمد اورنگزیب سے ورلڈ بینک حکام کی ملاقات

fm

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینٹر محمد اورنگزیب سے آج فنانس ڈویژن میں پاکستان کے لیے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابزار نے ملاقات کی۔

ملاقات میں ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے اور حکومتِ پاکستان کی اصلاحاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور آبادی و انسانی سرمایہ کی ترقی، موسمیاتی لچک، زراعت کے شعبے میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور مجموعی ترقیاتی منصو بو ں کی کارکردگی جیسے امور زیرِ بحث آئے۔

وزیرِ خزانہ نے سی پی ایف کے موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر آبادی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں، انہوں نے وفاقی اور صوبا ئی حکومتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت اجاگر کی تاکہ پالیسی ڈیزائن اور نفاذ میں ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔

عدالت کے حکم پربزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے شوہر کے حوالے کردیاگیا

ملاقات میں ادارہ جاتی رابطہ کاری کو بہتر بنانے، منصوبوں کی شفافیت اور اہداف کے تعین، اور نگرانی کے میکانزم کو مضبوط کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

زراعت کے شعبے میں اصلاحات، پیداوار میں اضافہ، ویلیو چین کی بہتری، مالی رسائی، اور نجی شعبے کی شراکت داری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا وزیرِ خزانہ نے کہا کہ صوبائی اقدامات کو قومی اصلاحاتی پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں-

مغربی کنارے کی یہودی بستی میں پہلی بار امریکی پاسپورٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان

توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالی پائیداری پر بھی بات ہوئی، اور دونوں طرف سے تکنیکی سطح پر مزید تبادلۂ خیال کرنے اور ممکنہ حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

کنٹری ڈائریکٹر نے مجموعی ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی اور جاری پروگراموں کی تفصیلات سے وزیرِ خزانہ کو آگاہ کیا اور پاکستان کی اقتصادی استحکام، موسمیاتی لچک، اور انسانی سرمایہ کی ترقی کے اہداف میں ورلڈ بینک کی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

وزیرِ خزانہ نے ورلڈ بینک کے تعاون کو سراہا اور حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ساختی اصلاحات، حکمرانی کے فریم ورک میں بہتری، اور ترقیاتی پروگراموں کے حقیقی اور پائیدار فوائد فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔

More posts