Baaghi TV

ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی والٹ سموں کا بحران، مستحق خواتین دربدر،تحریر: آمنہ خواجہ

ریاست کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ اپنے کمزور، بے سہارا اور مستحق شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ لیکن جب فلاحی منصوبے بھی انتظامی غفلت کی نذر ہونے لگیں تو امید کی کرن بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ملتان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک والٹ سموں کی مبینہ قلت نے ہزاروں مستحق خواتین کو اسی کربناک صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔

شہر اور گردونواح سے آنے والی خواتین کئی کئی روز سے متعلقہ دفاتر اور مراکز کے چکر کاٹ رہی ہیں، مگر ہر بار انہیں یہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے، نئی سمیں موصول ہونے پر ہی ان کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا جملہ بن چکا ہے جو ان خواتین کی امیدوں پر ہر روز پانی پھیر دیتا ہے۔شدید گرمی کی تپتی دھوپ، میلوں کا سفر، لمبی قطاریں، بار بار آنے جانے کے اخراجات اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے ہی ان خواتین کی زندگی کو دشوار بنائے ہوئے ہے۔ کئی خواتین روزانہ کی مصروفیات ترک کرکے مراکز کا رخ کرتی ہیں، جبکہ بعض اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لیے گھنٹوں انتظار کرتی رہتی ہیں۔ لیکن شام ڈھلنے تک ان کے ہاتھ میں صرف مایوسی آتی ہے اور دل میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ان کا قصور کیا ہے؟

یہ صورتحال کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے تو بنیادی انتظامی تیاریوں میں ایسی خامیاں کیوں موجود ہیں؟ اگر والٹ سمیں ہی دستیاب نہیں تو امدادی رقوم کی بروقت فراہمی کیسے ممکن ہوگی؟ فلاحی منصوبوں کی کامیابی صرف اعلانات، تقریبات یا اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس امر سے مشروط ہوتی ہے کہ مستحق افراد تک سہولت، عزت اور بروقت رسائی یقینی بنائی جائے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک معمولی انتظامی رکاوٹ ہزاروں غریب خاندانوں کے لیے معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جن خواتین کے لیے یہ امدادی رقم زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا واحد سہارا ہے، وہی آج دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع بلکہ ان کی عزتِ نفس پر بھی ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کا فوری اور سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ والٹ سموں کی فراہمی بلا تاخیر یقینی بنائی جائے، مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور ایسے انتظامات کیے جائیں کہ مستحق خواتین کو بار بار دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑے۔ریاست کی ذمہ داری صرف امدادی رقوم مختص کرنا نہیں بلکہ انہیں مستحقین تک باوقار، شفاف اور بروقت پہنچانا بھی ہے۔ اگر واقعی ملتان میں والٹ سموں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے تو یہ ایک انتظامی کمی بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بننے والا ایک سنگین مسئلہ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام محض یقین دہانیوں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کے ذریعے اس بحران کا مستقل حل نکالیں، تاکہ مستحق خواتین کو ان کا حق عزت، وقار اور بروقت مل سکے، اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

More posts