Baaghi TV

الفاظ کا جال اور غلامی،تحریر: اقصیٰ جبار

اطالوی فلسفی انتونیو گرامشی نے برسوں پہلے جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر ایک بڑی پتے کی بات کہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور لوگ جب عام انسانوں کو اپنا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں، تو وہ کسی بندوق، لاٹھی یا قانون کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ بہت چلاکی سے ہماری روزمرہ کی زبان اور لائف اسٹائل کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ایسے نئے الفاظ اور طریقے رائج کرتے ہیں جو ہمیں دیکھنے میں بہت معصوم، سیدھے اور ‘عقلِ عام’ (Common Sense) لگتے ہیں۔ نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ بظاہر غاصب نہ لگے، بلکہ ہماری عادت بن جائے۔

آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو گرامشی کا یہ فلسفہ ہمارے سوشل میڈیا اور موبائل فون کی شکل میں بالکل سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہم نے کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہی نہیں کہ "اسکرولنگ”، "ٹرینڈ”، "لائکس”، "ویوز” اور "فالوورز” جیسے بظاہر سادہ اور آسان الفاظ نے کس طرح ہماری سوچنے کی آزادی کو ہم سے چھین لیا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں ایک روایت ہوتی تھی کہ ہر دوسرا شخص اپنے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری, نوٹ بک یا بیاض رکھتا تھا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد جب انسان تھک ہار کر بیٹھتا، تو وہ اپنے سچے جذبات، اپنی خوشی، اپنا دکھ یا کوئی پسندیدہ شعر اس ڈائری کے سپرد کر دیتا تھا۔ وہ ڈائری کسی کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ انسان کی اپنے آپ سے گفتگو ہوتی تھی۔ وہاں کوئی سنسرشپ تھی اور نہ ہی کسی مصلحت کا خوف۔ وہ انسان کی اپنی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ کھل کر سانس لیتا تھا۔

لیکن آج کے ڈیجیٹل دور نے ہم سے وہ پناہ گاہ چھین لی ہے۔ اب ہم نے اپنے جذبات کو ڈائری میں چھپانے کے بجائے فیس بک اور انسٹاگرام پر "اسٹیٹس” اور "اسٹوریز” کی شکل میں سرِعام بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب ہماری سچی خوشی یا گہرا دکھ تب تک معتبر نہیں مانا جاتا، جب تک اس پر انٹرنیٹ کی دنیا کے سو پچاس لوگ ‘لائیک’ کا ٹھپا نہ لگا دیں۔ ہم نے اپنی تنہائی، اپنا سکون اور اپنی انفرادیت کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈیجیٹل مارکیٹ کے حوالے کر دیا ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ بدل گیا ہے؛ بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس ذہنی اسارت اور دکھاوے کی زندگی کو ہم نے بہت فخر سے اپنی ‘آزاد مرضی’ اور ‘جدید طرزِ زندگی’ سمجھ کر گلے سے لگا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ موبائل فون اور یہ سوشل میڈیا ایپس ہمارے خادم ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے بیٹھے کارپوریٹ نظام نے ایک ایسی زبان تخلیق کر دی ہے جو ہمیں اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہے۔ ہم وہی سوچ رہے ہیں، وہی خرید رہے ہیں اور ویسا ہی بن رہے ہیں جیسا یہ نظام ہمیں بنانا چاہتا ہے۔

اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اپنی باطنی روایات کو زندہ نہ کیا اور اس بھیڑ چال سے خود کو الگ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جس کے پاس چمکتے ہوئے موبائل تو ہوں گے، لیکن ان کے اندر دھڑکنے والا دل اور آزادانہ سوچنے والا دماغ بالکل ختم ہو چکا ہوگا۔ اپنی زبان، اپنی سوچ اور اپنی روایات کی حفاظت کیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

More posts