وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی بیٹی ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری اور مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر قانونی، انتظامی اور پالیسی ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے اور یہ فیصلہ متعلقہ پالیسی فریم ورک کے ساتھ ساتھ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے مطابق کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی تعلیمی اداروں میں سینئر اور تجربہ کار پروفیسرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے موجود قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی تعیناتی کے معاملے میں تمام ضروری قانونی، انتظامی اور آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ تقرری کسی غیر معمولی رعایت یا قواعد سے ہٹ کر کی گئی ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس فیصلے پر اعتراض کیا گیا کہ متعلقہ شعبے میں تجربہ رکھنے والے پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسرز موجود ہونے کے باوجود ڈاکٹر نگہت شاہ کو کنٹریکٹ پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اس معاملے میں فوری کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ اعلامیے میں اس فیصلے کو وسیع تر عوامی مفاد سے جوڑتے ہوئے بلا تاخیر عمل درآمد کا کہا گیا۔
تاہم حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کسی ذاتی رعایت کے تحت نہیں بلکہ طے شدہ پالیسی اور طبی تعلیمی اداروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر اٹھنے والے اعتراضات کے بعد تقرری کے طریقہ کار اور سینئر اساتذہ کو نظر انداز کیے جانے سے متعلق سوالات بدستور زیر بحث ہیں۔
قائم علی شاہ کی بیٹی ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری پر مراد علی شاہ کی وضاحت
